تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 394 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 394

خطبه جمعه فرموده 20 اکتوبر 1944ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم تک اس کو شروع ہوئے پانچ سال گزر گئے ہیں۔اس جنگ کی وجہ سے تبلیغ کے رستے رکے ہوئے ہیں۔سوائے لڑائی کے کاموں کے عام سفر کے لئے جہاز بند ہیں، حکومتیں پاسپورٹ دینے میں بخل سے کام لیتی ہیں۔کیونکہ وہ ڈرتی ہیں کہ ہمارے ملک کا آدمی باہر جا کر کہیں نقصان کا موجب نہ ہو۔اس وجہ سے ہماری تبلیغ پانچ سال سے بیرونی ممالک میں رکی پڑی ہے۔بعض جگہ جہاں جنگ سے پہلے کے مبلغ موجود ہیں، وہ پھیل نہیں سکتے اور لٹریچر نہ پہنچا سکنے کی وجہ سے ہم بھی ان کی زیادہ مدد نہیں کر سکتے کیونکہ پارسلوں کا جانا آنا بند ہے، بہت ہی تھوڑی تعداد میں پارسل جاسکتے ہیں۔گویا خدا تعالیٰ نے پانچ سال کی رات ہم پر نازل فرمائی ہے تاکہ تحریک جدید کی تیاری میں موقع مل سکے۔اگر لڑائی کی وجہ سے یہ وقفہ پیدا نہ ہوتا تو جماعت کے بعض ایسے احباب جو نچلا بیٹھنا نہیں جانتے ، شور مچانا شروع کر دیتے کہ تحریک جدید کو شروع ہوئے اتنے سال گزر گئے اور کام شروع نہیں ہوا۔مگر اللہ تعالیٰ نے ان کا منہ بند کرنے کے لئے ایسا سلسلہ شروع کر دیا کہ وہ لوگ بھی کہتے ہیں کہ ہاں جی حالات ہی ایسے ہیں کہ ان حالات میں کام ہو ہی نہیں سکتا۔پس یہ اتنا لمبا عرصہ خدا تعالیٰ نے ہمیں تیاری کے لئے دیا ہے تا کہ ہم اپنی طاقت کو جمع کر لیں۔لیکن اب یہ عرصہ ختم ہوتا نظر آ رہا ہے اور آثار ظاہر کر رہے ہیں کہ جنگ ایسے مقام پر پہنچ گئی ہے کہ کوئی نہ کوئی فریق بلکہ انشاء اللہ محوری طاقتیں ہتھیار ڈالنے اور اتحادیوں کی اطاعت قبول کر لینے پر مجبور ہو جائیں۔گی۔اس کے بعد چھ سات ماہ یا سال تک رستے کھل جائیں گے اور عام آمد و رفت جاری ہو جائے گی۔اس عرصہ میں ہم نے مبلغ تیار کرنے اور ریز روفنڈ قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ مادی کوششوں کے لحاظ سے ہماری یہ کوشش بہت محدود ہے۔عیسائیوں کی کروڑ کر وڑ ، دو دو کروڑ روپے کی ایک ایک انجمن ہوتی ہے۔ان کے مقابلہ میں ہمارا دس پندرہ لاکھ روپے کا ریز روفنڈ کوئی حقیقت نہیں رکھتا بلکہ اس میں مشنوں کے سامانوں کو دیکھتے ہوئے ساری دنیا تو الگ رہی، ایک ایک ملک میں بھی دس پندرہ لاکھ کی کوئی حقیقت نہیں۔مگر بہر حال جس خدا نے ہمیں اتنی طاقت دی ہے کہ دس پندرہ لاکھ ریز روفنڈ اکٹھا کریں ، وہ اس سے زیادہ کی بھی طاقت دے گا۔مگر جس طرح دنیا کی جنگ کے لئے تیاری اور ٹریننگ کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح دین کی جنگ کے لئے بھی تیاری اور ٹریننگ کی ضرورت ہوتی ہے۔ہر شخص اس بات کا اہل نہیں ہوتا کہ مبلغ بن سکے، جب تک وہ اسلامی مسائل اور علوم دینیہ سے اچھی طرح واقف نہ ہو۔جو ان باتوں سے ناواقف ہوگا ، وہ خود بھی گمراہ ہوگا اور دوسروں کو بھی گمراہ کرے گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مسلمانوں کی تباہی جن وجوہ کی وجہ سے ہوگی ، ان میں سے سب سے بڑی وجہ یہ ہو گی کہ ایسے لوگ غالب ہوں گے، جو علوم دین سے ناواقف ہونے کی وجہ سے خود بھی گمراہ ہوں گے اور و 394