تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 393 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 393

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد دوم خطبہ جمعہ فرمود و 20 اکتوبر 1944ء تراجم قرآن کریم اور دوسرا تبلیغی لٹریچر شائع کرنے کی سکیم۔خطبہ جمعہ فرمودہ 20 اکتوبر 1944 ء سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔اسلحہ کی جنگوں میں بعض وقت جبری تعطل کے آتے ہیں اور بعض وقت عارضی صلح کے ذریعہ ضرورة تعطل قائم کیا جاتا ہے۔عارضی صلح کے ذریعہ جو تعطل پیدا کیا جاتا ہے، اس کی ایک غرض تو یہ ہوتی ہے کہ طرفین اپنے اپنے مردوں کو دفن کر لیں اور زخمیوں کو اٹھا لیں۔اور جبری تعطل کہ وجہ یہ ہوتی ہے کہ طرفین اپنی اپنی طاقتوں کو جمع کر لیں اور ہمتوں کو استوار کر لیں۔پس عارضی صلح کے ذریعہ جو تعطل پیدا کیا جاتا ہے، اس کی غرض تو یہ ہوتی ہے کہ طرفین اپنے اپنے مردوں کو دفن کر لیں اور زخمیوں کو متشقی میں پہنچا سکیں۔اور جو تعطل جبری طریق سے پیدا ہوتا ہے، وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے طاقتوں کے مجتمع کرنے کے لئے ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ نے دن اور رات بنائے ہیں۔دن کو لوگ لڑتے ہیں اور رات کے وقت تاریکی کی جہ سے آپ ہی آپ لڑائی کا بیشتر حصہ ختم ہو جاتا ہے۔آج کل بے شک ایسے ذرائع نکل آئے ہیں، جس سے مصنوعی روشنی پیدا کر کے حملے کئے جاتے ہیں مگر یہ مصنوعی روشنی ہر رات استعمال نہیں کی جاسکتی ہے اور نہ ہر جگہ استعمال کی جاسکتی ہے اور باوجودان ذرائع کے رات کو پھر بھی ہر ایک فریق غنیمت سمجھتا ہے تا کہ فریقین آرام کر سکیں اور اپنی اپنی طاقتوں کو بحال کر لیں۔خاص خاص ایام میں اور خاص خاص حملوں کے موقع پر جبکہ ایک فریق بھی تیاری کے بعد حملہ آور ہوتا ہے۔اس وقت بے شک رات کو بھی جنگ جاری رہتی ہے۔ورنہ عام طور پر صرف دن کو ہی لڑائی لڑی جاتی ہے ، رات کے وقت تھوڑے تھوڑے سپاہی خبر رسانی کے طور پر کام کرتے ہیں تا کہ اگلے پچھلے حالات کا علم ہوتار ہے یا بعض دفعہ چھا پہ بھی مارا جاتا ہے مگر فوج کے پیشتر حصہ کو آرام کا موقعہ دیا جاتا ہے تا کہ وہ اپنی طاقت کو بحال کر کے دن کی لڑائی کے لئے تیار ہو جائے۔اگر اللہ تعالیٰ رات کو پیدا نہ فرما تا تو بعض مجنون دشمن دن اور رات لڑائی جاری رکھ کر خود بھی زیادہ تکان اور زیادہ کوفت کر لیتے اور مد مقابل کو بھی زیادہ تکان اور زیادہ کوفت کرا دیتے۔جس طرح یہ اسلحہ کی جنگ میں ہوتا ہے، اسی طرح خدا تعالی تبلیغی جنگوں میں بھی وقفوں کے سامان پیدا فرما دیتا ہے۔مثلاً یہی جنگ عظیم جو ہو رہی ہے، یہ 1939ء میں شروع ہوئی تھی اور اس وقت 393