تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 359 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 359

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم ملفوظات فرموده یکم مئی 1944ء سولہ سال کے تھے۔لیکن انہوں نے کہا، میں اپنے باپ کو قادیان میں ہی دفن کروں گا۔چنانچہ وہ ان کی لاش یہاں لائے۔سکھوں نے ان کا مقابلہ کرنا چاہا۔مگر کچھ تو ان کی دلیری کی وجہ سے اور کچھ اس وجہ سے کہ ہمارے آباء اس علاقہ پر حکمران رہ چکے تھے ، سارے علاقہ میں شورش ہوگئی اور لوگوں نے کہا ہم اس بات کو برداشت نہیں کر سکتے کہ ان کو اب یہاں دفن ہونے کے لئے بھی جگہ نہ دی جائے۔چنانچہ سکھوں نے اجازت دے دی اور وہ انہیں قادیان میں دفن کر گئے۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ ہمارے دادا نے جب یہ سلوک دیکھا تو انہوں نے کہا چونکہ اس زمانہ میں ساری عزت علم سے ہے، اس لئے میں اب علم حاصل کر کے رہوں گا تاکہ ہمارے خاندان کو عزت حاصل ہو۔چنانچہ انہوں نے گھر کو چھوڑ دیا اور دتی۔گئے۔ان کے ساتھ اس زمانہ کے طریق کے مطابق ایک میراثی بھی چل پڑا۔انہوں نے سنا ہوا تھا کہ مساجد میں تعلیم کا انتظام ہوتا ہے، جہاں لڑکے پڑھتے ہیں۔وہ بھی گئے اور ایک مسجد میں جا کر بیٹھ گئے۔مگر کسی نے ان کو پوچھا تک نہیں، یہاں تک کہ تین چار دن فاقہ سے گزر گئے۔تیسرے چوتھے دن کسی غریب کو خیال آیا اور وہ رات کے وقت انہیں ایک روٹی دے گیا۔مگر معلوم ہوتا ہے ، وہ کوئی بہت ہی غریب شخص تھا۔کیونکہ روٹی سات آٹھ دن کی تھی اور ایسی سوکھی ہوئی تھی، جسے لوہے کی تھالی ہوتی ہے۔وہ اپنے ہاتھ میں روٹی لے کر انتہائی افسردگی کے عالم میں بیٹھ گئے اور حیرت سے منہ میں انگلی ڈال کر اپنی حالت پر ا غور کرنے لگے کہ کس حد تک ہماری حالت گر چکی ہے۔میراثی ان کے چہرے کے رنگ کو دیکھ کر سمجھ گیا کہ اس وقت یہ سخت غم کی حالت میں ہیں اور اس نے خیال کیا کہ ایسا نہ ہو کہ یہ صدمے سے بیمار ہو جائیں۔میراثیوں کی چونکہ ہنسی کی عادت ہوتی ہے، اس لئے اس نے سمجھا کہ اب مجھے کوئی مذاق کر کے ان کی طبیعت کا رخ کسی اور طرف بدلنا چاہیے۔چنانچہ وہ مذاقاً کہنے لگا " مرزا جی میرا حصہ وہ جانتا تھا کہ یہ کوئی حصے والی چیز نہیں۔مگر چونکہ وہ چاہتا تھا کہ ان کا صدمہ کسی طرح دور ہو، اس لئے اس نے مذاق کر دیا۔انہیں یہ سن کر سخت غصہ آیا اور انہوں نے زور سے روٹی اس کی طرف پھینکی ، جو اس کی ناک پر لگی اور خون بہنے لگ گیا۔یہ دیکھ کر وہ اٹھے اور میراثی سے ہمدردی کرنے لگے۔اس طرح ان کی دماغی حالت جو صدمہ سے غیر متوازن ہو گئی تھی ، درست ہو گئی۔ورنہ خطرہ تھا کہ وہ اس غم سے کہیں پاگل نہ ہو جائیں۔پھر خدا نے ان کے لئے ایسے سامان پیدا فرمائے کہ وہ وہاں سے خوب علم پڑھ کر واپس ہوئے۔ا توجب انسان کسی بات کا پختہ ارادہ کر لیتا ہے۔اللہ تعالیٰ اس کے لئے سامان بھی پیدا کر دیتا ہے۔اصل میں اللہ تعالیٰ نے انسان کے دل میں یہ مادہ رکھا ہے کہ وہ قربانی کی قدر کرتا ہے۔اگر لوگ دیکھیں کہ 359