تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 358
ملفوظات فرموده یکم مئی 1944ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم مطالعہ کرنے لئے ان کی منتیں بھی کرنی پڑیں تو کوئی حرج نہیں۔مولوی قوم کے راجہ ہوتے ہیں، جس طرح راجہ کے پیچھے اس کی رعایا چلتی ہے، اسی طرح جب کوئی صاحب اثر مولوی احمدیت قبول کرلے تو اس کے ساتھ تعلق رکھنے والوں کا بیعت میں شامل ہو جانا بالکل آسان ہوتا ہے۔ہماری جماعت میں مولوی برہان الدین صاحب جہلمی کے اثر کے ماتحت بہت لوگ داخل ہوئے تھے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جہلم سے مقدمہ کی پیروی کے بعد واپس تشریف لائے تو آپ بہت ہی متاثر تھے۔کیونکہ مولوی برہان الدین صاحب کا وہاں بڑا اثر تھا اور آپ جہاں جاتے ، یہی وعظ کرتے تھے کہ مرزا صاحب آرہے ہیں، جاؤ اور ان کو دیکھو۔پھر ان کے وعظ کا رنگ بھی عجیب تھا کہ بار بار کہتے ، سبحان اللہ، ایہ نعمتاں کتھوں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب جہلم تشریف لے گئے تو ان کے ساتھ تعلق رکھنے والے سینکڑوں لوگوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ سٹیشن سے کچہری تک لوگوں کے اثر دھام کی وجہ سے یہ حالت تھی کہ اگر تھالی پھینکی جاتی تو ان کے سروں پر اڑتی چلی جاتی۔ایک علاقہ کے علاقہ میں اتنی بڑی ہلچل کا پیدا ہو جانا محض مولوی برہان الدین صاحب کے اثر کا نتیجہ تھا۔اسی طرح اگر اب علماء کی طرف توجہ کی جائے تو ہزاروں لوگ ان کے ذریعہ احمدیت میں داخل ہو سکتے ہیں“۔ایک دوست نے علاقہ سرگودہا کے حالات بیان کر کے عرض کیا کہ یہ علاقہ بھی تبلیغی نقطہ نگاہ سے حضور کی توجہ کا محتاج ہے۔حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:۔سرگودھا بے شک تبلیغ کے لحاظ سے ہم پر حق رکھتا ہے کیونکہ خلیفہ اول اسی علاقہ کے تھے۔فرمایا:۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سنایا کرتے تھے، جب سکھوں نے قادیان فتح کر لیا تو ہمارے خاندان کے افراد کپورتھلہ میں چلے گئے اور وہاں کی ریاست نے ان کو گزارہ کے لئے دو گاؤں دے دیئے۔کپورتھلہ میں ہی ہمارے پردادا صاحب فوت ہو گئے تھے۔ہمارے دادا کی عمر اس وقت سولہ سال تھی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے پردادا اپنے والد کے برخلاف جو بہت بڑے پارسا اور عزم کے مالک تھے، کم ہمت تھے۔اور اسی وجہ سے ہمارے خاندان کو یہ ذلت پہنچی۔لیکن ہمارے دادا ہمت والے تھے۔اس وقت جب ہمارے پر دادا فوت ہوئے ، وہ صرف 358