تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 357
تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم ملفوظات فرموده یکم مئی 1944ء میں لوٹا رکھ دیتا، کوئی پانی پلانے کے لئے موجود ہوتا، کوئی دبانے کے لئے پاس بیٹھارہتا۔اس طرح آپ فرماتے کہ میں ڈیک میں اتنے آرام سے پہنچا کہ سیکنڈ کلاس میں بھی اتنا آرام میسر نہیں آسکتا تھا۔تو طب بھی ایک بہت بڑی نعمت ہے۔اگر کوئی شخص با قاعدہ طب حاصل نہیں کر سکتا تو وہ چھوٹی موٹی باتیں تو یا درکھ سکتا ہے۔عربی میں مثل ہے۔مالا یدرک کله لایترک کله جو چیز ساری حاصل نہیں کی جاسکتی ، وہ ساری چھوڑنی بھی تو نہیں چاہیے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ طب میں سرجری نہیں۔اسی طرح بعض اور تحقیقاتوں میں وہ ڈاکٹری سے بہت پیچھے ہے لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ مخلوق کو ابھی طب سے جس قدر فائدہ پہنایا جا سکتا ہے، وہ فائدہ ابھی تک نہیں پہنچایا گیا۔اگر ہمارے مبلغ طب سیکھ لیں تو انہیں روٹی مانگنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔وہ جہاں جائیں گے ، لوگ انہیں عزت و احترام کی نگاہوں سے دیکھیں گے اور ان کی خدمت کر کے خوش ہوں گے۔پس یہ بھی ایک ذریعہ ہے جس سے ہماری جماعت کے دوست تبلیغ کر سکتے ہیں۔اسی طرح تبلیغ کا ایک یہ بھی ذریعہ ہے کہ کھاتے پیتے لوگ اپنی اولادوں کو خود خرچ دیں اور ان کے ذریعہ تبلیغ کرا ئیں۔حقیقت یہ ہے کہ قوم اسی وقت تبلیغ میں کامیاب ہو سکتی ہے ، جب وہ اپنے گھروں سے اسی طرح نکل کھڑی ہو، جس طرح بارش کے بعد زمین میں سے کیڑے مکوڑے نکلنے شروع ہو جاتے ہیں۔تب کوئی قوم اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔وہ ایک عجیب نظارہ ہوتا ہے، جب بارش کے بعد کیڑے مکوڑے نکلنے شروع ہوتے ہیں۔درحقیقت وہ بھی ایک چھوٹا سا حشر ہوتا ہے، جب زمین پر پانی کا چھینٹا پڑتا ہے تو کوئی دولاتوں کا نڈا، کوئی چارلاتوں کا نڈا، کوئی موٹا، کوئی چھوٹا سب زمین میں سے نکل آتے ہیں۔یہی خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ جب دنیا پر نبوت کی بارش نازل ہو تو اس کے بعد عالم بھی اور جاہل بھی، تھوڑے علم والے بھی اور زیادہ علم والے بھی، لائق بھی اور نالائق بھی سب اپنے اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوں۔جب وہ ایسا کرتے ہیں تو چونکہ سچائی میں ایک طاقت ہوتی ہے، اس لئے لوگ خود بخود ہتھیار ڈال دیتے ہیں۔اسی طرح اس امر کی بھی ضرورت ہے کہ پرانے علماء کی طرف توجہ کی جائے اور انہیں احمدیت کی طرف مائل کیا جائے۔اگر دس پندرہ بڑے بڑے صاحب رسوخ مولوی ہماری جماعت میں داخل ہو جائیں تو ان کے اثر کی وجہ سے ایک ایک کے ساتھ ہزار ہزار ، دو دو ہزار آدمی آ سکتے ہیں۔پس ہمیں اپنی جماعت میں مولویوں کو کھینچ کھینچ کر لانا چاہیے بلکہ اگر ہمیں ان کو قادیان آنے اور یہاں کے حالات کا 357