تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 21 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 21

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد دوم خطہ جمعہ فرموده 126 میں ہم اس کے متعلق حرام کا لفظ ہی استعمال کریں گے۔مگر جب پھر کسی زمانہ میں وہ شرائط پائی جائیں تو وہی حرام چیز نہ صرف حلال بلکہ فرض ہو جائے گی۔تو تلوار کے جہاد کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس زمانہ کے حالات کے ماتحت شرعی احکام کے مطابق حرام قرار دیا ہے۔پس یہ جہاد تو یوں حرام ہو گیا۔اب رہ گیا دوسرا جہاد جو تبلیغ اسلام کا ہے۔سو وہ یقیناً ایسا جہاد ہے جو ہماری جماعت کے ہر فرد پر فرض ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ یہ تبلیغی جہاد جس میں ہماری جماعت کے ہر فرد کا حصہ لینا ضروری ہے اس کو ہماری جماعت کس طرح سرانجام دے رہی ہے ؟ تم کہہ سکتے ہو کہ ہم چندہ دیتے ہیں، چندے سے کتابیں چھپتی ہیں اور کتابوں سے تبلیغ ہوتی ہے مگر اس طرح تو صحابہ بھی کہہ سکتے تھے کہ ہم روپیہ دیتے ہیں، روپے سے سپاہی تیار ہوتے ہیں اور سپاہی ہم سب کی طرف سے جہاد کرتے ہیں۔مگر کیا ان میں سے ایک صحابی نے بھی کبھی ایسا کہا ؟ اور کیا اس جواب کے بعد وہ مومن سمجھا جا سکتا تھا؟ بے شک بعض حالات میں یہ جائز ہوتا ہے کہ انسان اپنی طرف سے دوسرے کو جہاد کے لئے بھیج دے۔مگر یہ اسی وقت جائز ہوتا ہے جب شریعت اس کی اجازت دیتی ہو یا کسی کی معذوری ایسی واضح ہو جس کے علاج کی کوئی صورت نہ ہو۔جیسے روپے دے کر اپنی طرف سے کسی کو تبلیغ کے لئے مقرر کر دینا صرف اس کیلئے جائز ہوگا جو گونگا ہو اور جس کے منہ میں زبان نہ ہو۔اس کے لئے بے شک جائز ہوگا کہ وہ اپنی طرف سے کسی اور کو تبلیغ کے لئے مقرر کر دے اور اس کے اخراجات کو خود برداشت کرے۔یہ ایسا ہی ہے جیسے اگر کوئی شخص اپنی کسی معذوری کی وجہ سے حج کے لئے نہیں جاسکتا تو وہ اپنی طرف سے کسی اور کو روپیہ دے کر حج کراسکتا ہے۔مگر جو شخص حج کے لئے جاسکتا ہو اور اس کے لئے کسی قسم کی روک نہ ہو، اس کے لئے جائز نہیں کہ وہ کسی اور کو اپنی طرف سے حج کے لئے بھیج دے اور اگر وہ کسی کو روپیہ دے کر اپنی طرف سے حج کرواتا ہے تو اس کا حج ہر گز قبول نہیں ہوگا۔پس جبکہ تبلیغ ایک جہاد ہے اور یہ جہاد ہر شخص پر فرض ہے تو جو شخص اتنے اہم فریضے کو ترک کرتا ہے اس کے گناہ گار ہونے میں کیا شبہ ہو سکتا ہے؟ اگر اس تبلیغ کی حیثیت محض نوافل کی سی ہوتی ، تب بھی اس میں شمولیت حصول ثواب کیلئے ضروری تھی۔مگر جیسا کہ میں بتا چکا ہوں یہ جہاد ہے اور جہاد فرض ہوا کرتا ہے نفل نہیں ہوتا۔پس ہر احمدی جو اپنی زبان سے دوسروں کو تبلیغ کرنے کی طاقت رکھتا ہے مگر وہ اپنے اوقات میں سے تبلیغ کے لئے کوئی وقت نہیں دیتا۔وہ یقینا ایک فریضہ کو ادا نہ کرنے کی وجہ سے ایسا گناہ گار ہے جیسے نماز کا تارک گناہ گار ہے، ایسا ہی گناہ گار ہے جیسے روزہ کا تارک گناہ گار ہے، ایسا ہی گناہ گار ہے جیسے حج کا تارک گناہ گار ہے، ایسا ہی گناہ گار ہے جیسا ز کوۃ کا تارک گناہ گار ہے۔21