تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 20 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 20

خطبہ جمعہ فرمود 26 اپریل 1940ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم اور ایک زمانہ کے لئے وہ خدا اور اس کے رسول کے احکام کے ماتحت منسوخ تو ہو سکتا ہے مگر کی طور پر نہیں مٹ سکتا۔کیونکہ قرآن کریم کی کوئی تعلیم ایسی نہیں ج ہمیشہ کے لیئے متروک اور نا قابل عمل قرار دی جاسکے۔قرآن کریم نے ہمیں جس قدر تعلیمیں دی ہیں وہ دو قسم کی ہیں۔بعض تعلیمیں تو ایسی ہیں جو ہر زمانہ میں قائم رہتی ہیں اور بعض تعلیمیں ایسی ہیں جو وقتا فوقتا جاری ہوتی ہیں۔یہ تعلیم بھی جو تلوار کے جہاد کے ساتھ تعلق رکھتی ہے انہی تعلیموں میں سے ہے جو وقتا فوقتا جاری ہوتی ہیں اور اس کی ہماری شریعت میں اور بھی کئی ایک مثالیں موجود ہیں۔بعض نادان یہ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس جہاد کے متعلق حرام کا لفظ کیوں استعمال فرمایا؟ چنانچہ حال ہی میں ایک شخص کا میں نے اعتراض دیکھا ہے کہ جب یہ جہاد حالات کے بدلنے پر جائز ہے تو پھر موجودہ زمانہ میں اسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے حرام کیوں قرار دیا؟ حرام تو وہی چیز ہوا کرتی ہے جو ہمیشہ کے لئے حرام ہو۔مگر یہ بالکل بیہودہ اور لغو بات ہے۔نماز حرام ہے جب سورج نکل رہا ہو، نماز حرام ہے جب سورج سر پر ہو، نماز حرام ہے جب سورج ڈوب رہا ہو۔مگر کیا اس کے یہ معنی ہیں کہ نماز بالکل حرام ہے اور ہمیشہ کے لئے اس کا پڑھنانا جائز ہے؟ اسی طرح روزہ حرام ہے عید کے دن مگر کیا اس کے یہ معنی ہیں کہ روزہ ہمیشہ کے لئے حرام ہے؟ کیا دوسرے وقتوں میں اگر کوئی روزہ رکھے تو اسے کہا جا سکتا ہے کہ جب عید کے دن روزہ حرام تھا تو بعد میں تم نے کیوں رکھا ؟ تو ہماری شریعت میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض اوقات بعض باتیں نا جائز ہوتی ہیں مگر وہی باتیں دوسرے وقت میں جائز بلکہ بعض دفعہ فرض ہو جاتی ہیں۔جیسے روزہ حرام ہے عید کے دن ، روزہ جائز ہے گیارہ مہینے اور روزہ فرض ہے رمضان میں۔اسی طرح نماز حرام ہے جب سورج نکل رہا ہو، نماز حرام ہے جب سورج سر پر ہو ، نماز حرام ہے جب سورج ڈوب رہا ہو مگر نماز جائز ہے اشراق سے لے کر اس وقت تک کہ سورج نصف النہار تک پہنچنے والا ہو۔نماز جائز ہے ظہر اور عصر کے درمیان ، نماز جائز ہے مغرب اور عشا کے درمیان، نماز جائز ہے عشا اور فجر کے درمیان اور نماز جائز ہے صبح صادق سے لے کر نماز صبح تک۔لیکن یہی نماز فرض ہے صبح کے وقت ، نماز فرض ہے ظہر کے وقت، نماز فرض ہے عصر کے وقت ، نماز فرض ہے مغرب کے وقت اور نماز فرض ہے عشا کے وقت۔ان دونوں مثالوں میں دیکھ لو بعض صورتوں میں ایک چیز جائز ہے، بعض صورتوں میں فرض ہے اور بعض صورتوں میں بالکل حرام ہے۔اسی طرح تلوار کا جہاد حرام ہے جب اس کی شرائط نہ پائی جاتی ہوں۔اور یقیناً ایسی صورت 20