تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 22 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 22

خطبہ جمعہ فرمودہ 26 اپریل 1940ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم پس اس مسئلہ کی اہمیت جماعت کو اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے اور یہ امر ذہن نشین کر لینا چاہئے کہ اس وقت تلوار کے جہاد کی بجائے تبلیغ اسلام کا جہاد ہر مومن پر فرض ہے اور اگر یہ بات غلط ہے کہ تلوار کا جہاد اس وقت حرام ہے تو ایسی صورت میں تمہارا فرض ہے کہ تلوار لو اور کفار کو مارنا شروع کر دوں لیکن اگر تلوار کا جہاد اس وقت حرام ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں ایسے وقت میں تبلیغ کا جہاد شروع ہو جاتا ہے۔اور یہ امر ظاہر ہے کہ جہاد میں اپنا قائم مقام دینے کی کسی کو اجازت نہیں ہوتی بلکہ ذاتی طور پر ہر شخص کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اس جہاد میں شامل ہو۔ہم نے تو جماعت کے دوستوں کے لئے اتنی سہولت پیدا کر دی ہے کہ ان پر پابندی ہی نہیں رکھی کہ وہ ضرور دو دو یا تین تین مہینے تبلیغ کے لئے وقف کریں بلکہ اجازت دی ہے کہ اگر کوئی شخص پندرہ دن تبلیغ کے لئے دے سکتا ہوتو پندرہ دن ہی دے دے، تین ہفتے دے سکتا ہو تو تین ہفتے دے، مہینہ دے سکتا ہو تو مہینہ دے، دو مہینے دے سکتا ہو تو دو مہینے دے۔بہر حال ہم نے اپنی جماعت کے دوستوں کی سہولت کے لئے اس حکم کو بہت نرم کر دیا ہے بلکہ اب میں کہتا ہوں جو دو ہفتے دینے سے معذور ہو محکمہ ان کی طرف سے ایک ہفتہ ہی منظور کرے۔پس چاہیے کہ ہر شخص اس سے فائدہ اٹھائے اور تبلیغ کے لئے سال میں سے پندرہ دن یا مہینہ یا دو مہینے وقف کرے۔ورنہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے ہر شخص جو اس ذمہ داری کو ادا نہیں کرتا ، وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک فریضہ کا تارک ہے اور اس کا گناہ ویسا ہی ہے جیسے نماز کے ترک کرنے کا، جیسے روزہ کے ترک کرنے کا، جیسے حج اور زکوۃ کے ترک کرنے کا۔پس میں جماعت کو آج پھر اس اہم امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔آج میں نے اس مسئلہ کو زیادہ واضح کر دیا ہے تا کہ کسی کو اس کے سمجھنے میں دقت نہ ہو۔تم خود ہی غور کرو اگر یہ جہاد ہے اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھا، یہ جہاد ہے۔اور پھر جہاد میں قائمقام دینا جائز نہیں ہوتا بلکہ ہر شخص کا ذاتی طور پر فرض ہوتا ہے کہ وہ اس میں حصہ لے۔اس لئے اگر کوئی شخص اس تبلیغ کے فریضہ کو ادا نہیں کرے گا تو وہ گنہگار ہوگا۔پس ہر جگہ کی جماعت کو اس کے متعلق فوری طور پر انتظام کرنا چاہیے جو جماعت اس کے متعلق کوئی انتظام نہیں کرے گی ، وہ ایک بہت بڑی ذمہ داری ادا کرنے سے قاصر مجھی جائے گی۔خصوصاً قادیان کے دوستوں کو میں اس اہم امر کی طرف متوجہ کرتا ہوں۔جو قادیان میں ہجرت کر کے آئے ہوئے ہیں اور 22