تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 299
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم خطبہ جمعہ فرمودہ 31 مارچ 1944ء ہوتی ہیں کہ ڈاک جاری ہوتی ہے، ہوائی جہازوں سے خط آتے جاتے ہیں ، تاریں آجاتی ہیں، وہ بیمار ہو تو چند گھنٹوں کے اندر اندر اطلاع پہنچ جاتی ہے، اس کے بیوی بچے بیمار ہوں تو چند گھنٹوں میں اسے اطلاع ہو جاتی ہے، کوئی موت ہو تو اس کی فوراً اطلاع بھجوا دی جاتی ہے، اس کے گھر میں کوئی مصیبت آئے تو سلسلہ ایک حد تک اپنی ذمہ داری ادا کرنے کے لئے روپیہ بھی خرچ کرتا ہے، کوئی بیمار ہو تو جماعت کے ڈاکٹر علاج کے لئے موجود ہوتے ہیں۔غرض اس زمانہ میں کئی قسم کے آرام اور کئی قسم کی سہولتیں لوگوں کو میسر ہیں مگر وہ زمانہ جب پہلے انبیاء کی امتوں نے قربانیاں کیں، ایسا زمانہ تھا کہ اس وقت ان سہولتوں میں سے کوئی سہولت بھی میسر نہ تھی۔نہ ڈاک کا انتظام تھا، نہ تار کا انتظام تھا، نہ شفا خانوں کا انتظام تھا ، نہ خرچ کا انتظام تھا۔بس ان کے دل میں تبلیغ کا خیال آتا اور وہ اسی وقت اٹھ بیٹھتے اور سینکڑوں ہزاروں میل پیدل سفر طے کرتے ہوئے غیر ملکوں میں تبلیغ کے لئے نکل جاتے۔یہ قربانیوں کا نمونہ ایسا شاندار ہے کہ ہم جب اس نمونہ کو دیکھتے اور اس کے مقابلہ میں اپنی قربانیوں کو رکھتے ہیں تو ہماری سمجھ میں ہی نہیں آتا کہ محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کا قائمقام اللہ تعالیٰ نے ہمیں کیوں بنا دیا؟ در حقیقت ہمیں صحابہ کا قائمقام بنات ہی ہمیں اپنے نفس میں شرمندہ کرنے کے لئے کافی ہے۔بعض دفعہ کسی شخص کو شرمندہ کیا جاتا ہے تو کوئی بھاری کام اس کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔اس کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ وہ شخص بڑا ہو گیا ہے بلکہ اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ تم اپنے آپ کو بڑا سمجھا کرتے تھے ، لواب ایک بڑا کام ہم تمہارے سپرد کرتے ہیں، ہم اس کو کر کے دکھاؤ۔ایسے آدمی میں اگر چہ شرافت ہوتی ہے، ایسے آدمی میں اگر ایمان ہوتا ہے تو وہ اسی وقت اللہ تعالیٰ کے حضور سجدے میں گر جاتا اور اس سے عاجزانہ دعا کرتا ہے کہ الہی تو نے مجھے اس ابتلا میں تو ڈال دیا، اب اپنے فضل سے میری عزت رکھ لے اور میرے ہاتھوں سے یہ ماسے کام کرا دے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وعدوں کو دیکھتے ہوئے اور اللہ تعالی کے اس سلوک کو دیکھتے ہوئے ، جو ہمارے ساتھ ہے، ہمیں یقین ہے کہ یہ ابتلا ٹھو کر والا ابتلا نہیں بلکہ اس کے ذریعہ ہمارے لئے کوئی بہت بڑی فضلیت مقدر ہے۔کیوں مقدر ہے؟ شاید اللہ تعالیٰ یہ بتانا چاہتا ہے کہ پہلی قو میں ایسی تھیں، جنہوں نے قربانیاں کر کے فتح حاصل کی۔باوجود اس کے کہ ان کے بانی شروع میں کمزور تھے، دنیا ان کی مخالف تھی اور سخت سے سخت تکلیفیں اور مصیبتیں ان کو پیش آئیں مگر چونکہ ان کی جماعتوں نے بڑی بڑی قربانیاں کیں۔اس لئے دنیا نے کہا بے شک وہ نبی کمزور تھے ، فتح کے سامان ان کے پاس نہیں تھے مگر چونکہ انہیں ایسی جماعتیں مل گئیں، جو قربانیاں کرنے والی تھیں، اس لئے انہیں فتح حاصل ہو گئی۔اگر ایسی قربانی کرنے والی جماعتیں ان کو میسر نہ آتیں تو ان کو فتح اور کامیابی بھی حاصل نہ ہوتی۔299