تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 300 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 300

خطبه جمعه فرموده 31 مارچ 1944ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔۔جلد دوم پس چونکہ دنیا نے یہ اعتراض کیا اس لئے شاید اللہ تعالیٰ اپنے آخری موعود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں دنیا کو یہ دکھانا چاہتا ہے کہ لو بغیر جماعت کی خاص قربانیوں کے اور بغیر ترقی کے خاص سامانوں کے ہم اپنی طاقت اور قدرت سے ہی کام کر کے دکھا دیتے ہیں۔لیکن بہر حال خواہ جماعت کی قربانیوں کے بغیر یہ کام ہو چونکہ یہ کام ہمارے ہاتھوں سے ہو گا ، اس لئے ہمیں عزت ضرور مل جائے گی اور مفت میں ہمیں ثواب ہو جائے گا۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسے ایک تنکے سے خدا تعالیٰ کشتیوں کا کام لے لے۔بے شک ایک تنکا اپنی ذات میں کچھ حقیقت نہیں رکھتا لیکن جس تنکے میں خدا تعالیٰ یہ طاقت پیدا کر دے کہ وہ سہارا دے کر لوگوں کو دریا سے گزار دے، اس میں بھی ایک خوبی پیدا ہو جاتی ہے، اس میں بھی ایک حرکت پیدا ہو جاتی ہے۔اگر وہ تنکا دنیا میں محفوظ ہو تو یقیناً ہزاروں میل سے لوگ اس کی زیارت کرنے کے لئے آئیں۔اس طرح ہمارے ہاتھ سے اگر یہ کام ہو جائے تو ہماری مثال گو ایک تنکے کی سی ہوگی لیکن چونکہ خدا کا کام ہمارے ہاتھ سے ہوا ہوگا، اس لئے ہمارا وجود خدا اتعالیٰ کی کرامت اور اس کی قدرت اور اس کی رحمت کا ایک مورد اور ذریعہ ہونے کی وجہ سے دنیا میں ایک نشان بن جائے گا۔جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کا وہ کر نہ نشان تھا ، جس پر سرخی کے چھینٹے پڑے اور جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وہ بقیہ کپڑے نشان ہیں، جن کے متعلق خدا تعالی نے فرمایا کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے“۔یہ صاف بات ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کر نہ قربانی نہیں کر رہا تھا، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا پاجامہ قربانی نہیں کر رہا تھا بلکہ قربانی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کر رہے تھے۔وہ سوز وگداز سے بھری ہوئی دعائیں، جو عرش سے ٹکرار ہیں تھیں۔وہ خدا کے نام کی اشاعت اور اس کی بلندی کے لئے دن رات کی کوششیں، جو دنیا میں ہو رہی تھیں۔وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے انوار کو پھیلانے اور آپ کی عظمت سے دنیا کو روشناس کرانے کے لئے جد و جہد ، جو اس عالم میں جاری تھی۔وہ تمام جد و جہد، وہ تمام کوشش اور وہ تمام قربانی کرتہ نہیں کر رہا تھا بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خود کر رہے تھے۔وہ رات دن کی کوفت، جو مختلف علمی کتب لکھنے سے آپ کو ہوتی۔وہ مخفی علوم، جو آپ دنیا پر ظاہر کر رہے تھے۔وہ چھپے ہوئے خزانے ، جن کو آپ زمین سے باہر نکال رہے تھے۔وہ دولتیں، جن پر لوگوں کے بخل کی وجہ سے زنگ لگ گیا تھا اور وہ سکے ، جن پر اس قدر میل جم چکی تھی کہ وہ پہچانے تک نہیں جاتے تھے، ان کو صاف کرنے اور دنیا میں پھیلانے اور لوگوں کے گھروں میں وہ مال و دولت پہنچانے 300