تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 298 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 298

خطبه جمعه فرمودہ 31 مارچ 1944ء تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔جلد دوم اور بشاشت سے برداشت کئے۔بغیر اس کے کہ کوئی انجمن ہو، بغیر اس کے کہ ان میں تنظیم ہو ، بغیر اس کے کہ انہیں روپیہ کی سہولت حاصل ہو۔وہ بھیک مانگتے اور لوگوں کو تبلیغ کرتے چلے گئے۔یہاں تک کہ دنیا میں عیسائیت کے نام کو پھیلا دیا۔ہم حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھیوں کو دیکھتے ہیں، ایک زبردست بادشاہ کا انہوں نے مقابلہ کیا اور گو انہوں نے کمزوریاں بھی دکھائیں مگر پھر بھی ان کا نمونہ نہایت شاندار ہے۔فرعون جیسا طاقتور بادشاہ ، جس نے ارد گرد کی تمام حکومتوں کو زیرنگین کر لیا تھا ، جس سے ایران تک ڈرتا تھا ، جس سے یورپ تک خائف تھا۔ایسے بادشاہ کے مقابلہ میں وہ ہمت سے کھڑے ہوئے۔انہوں نے اپنا وطن چھوڑ دیا اور غیر معین وعدوں پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ چل پڑے اور چالیس سال تک جنگلوں میں پھرتے رہے۔ہم تو دیکھتے ہیں ہم نے صرف چالیس دن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے مزار پر غلبہ اسلام کے لئے لوگوں کو دعا کرنے کی تحریک کی۔پھر بھی قادیان میں سے کتنے تھوڑے لوگ ہیں ، جو التزام کے ساتھ وہاں دعا کرنے کے لئے جاتے ہیں؟ چالیس دن کی دعا اور چالیس سال تک جنگلوں میں بھٹکتے پھرنا ، کیا ان دونوں میں کوئی بھی نسبت ہے؟ لیکن ان لوگوں نے ایسا کر کے دکھا دیا۔پھر ہم دیکھتے ہیں اور انبیاء، جو بنی اسرائیل میں ہوئے یا اور ممالک میں پیدا ہوئے ان کے ساتھیوں نے بھی حیرت انگیز قربانیاں کیں۔ہندوستان میں ہی حضرت کرشن علیہ السلام کے ساتھیوں نے ایک بھاری جنگ میں دشمن کے مقابلہ میں متواتر قربانی کی اور اپنی جانیں حضرت کرشن علیہ السلام کے حکم پر نثار کر دیں۔حالانکہ اس میں ان کا کوئی ذاتی فائدہ نہیں تھا بلکہ ان کے لئے ایک ابتلا اور ٹھوکر کا مقام تھا۔کیونکہ حضرت کرشن جس شخص کی تائید کے لئے کھڑے ہوئے تھے، وہ ان کا ایک رشتہ دار تھا۔پس وہ کہہ سکتے تھے کہ یہ لڑائی اپنے ایک رشتہ دار کے لئے کی جارہی ہے، ہم اس میں کیوں حصہ لیں ؟ مگر انہوں نے اس بات کی کوئی پروانہ کی۔ہندوستان کے مختلف علاقوں سے لوگ جمع ہوئے اور ان کے ساتھ مل کر دشمن سے جنگ کرتے رہے۔دشمن زبر دست تھا ، وہ اپنی طاقت اور تعداد میں زیادہ تھا مگر پھر بھی ایک لمبے عرصہ تک وہ اپنی جانوں کو ان کے حکم پر قربان کرتے رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے پانسہ پلٹ دیا اور حضرت کرشن اور ان کے ساتھیوں کو فتح ہوئی۔ہم حضرت زرتشت اور ان کے ساتھیوں کو دیکھتے ہیں تو انہوں نے بھی اس قدر قربانیاں کی ہیں کہ دیکھ کر حیرت آتی ہے۔حالانکہ اس زمانہ میں لوگوں کو وہ سہولتیں میسر نہیں تھیں، جو اس زمانہ میں میسر ہیں۔اب نہ جان دینے کا مطالبہ ہوتا ہے، نہ وطن چھوڑنے کا مطالبہ ہوتا ہے، صرف چند سالوں کے لئے ایک مبلغ باہر جاتا ہے اور ان چند سالوں کے لئے بھی اسے اس قدر سہولتیں میسر 298