تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 297 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 297

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم خطبہ جمعہ فرمودہ 31 مارچ 1944ء زندگی وہی ہے، جو خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ ہو خطبہ جمعہ فرمودہ 31 مارچ 1944ء سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔" مجھے اتر سوں شدید پیچش کی شکایت ہوگئی تھی جس سے خون کے دست بھی آتے رہے اور گوگل سے اس میں افاقہ ہے لیکن ابھی بخار روزانہ ہو جاتا ہے بلکہ اب بھی ہے۔چنانچہ ابھی آتے ہوئے تھرما میٹر لگا کر میں نے دیکھا تھا۔اس کے علاوہ آج مجھے گردے کے مقام پر درد بھی ہو گیا۔ان وجوہ کے ماتحت میں آ تو نہیں سکتا تھا لیکن میرے دل نے گوارا نہ کیا اور یہی فیصلہ کیا کہ چاہے بیٹھ کر مجھے خطبہ دینا پڑے اور خواہ بعد میں تکلیف بڑھ جائے ، پھر بھی خود جا کر مجھے خطبہ پڑھنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ نے ہمارے سپر د جو کام کیا ہے، وہ اتنا اہم اور اتنا عظیم الشان ہے کہ اس کے لئے جتنی بھی قربانی جماعت کو کرنی پڑے، درحقیقت وہ کام اس کا مستحق ہوگا اور جتنی بھی قربانی ہم کریں ، در حقیقت وہ قربانی اس فضل سے کم ہی رہے گی، جو اللہ تعالیٰ نے یہ کام ہمارے سپرد کر کے ہم پر کیا ہے۔میں تو حیران رہ جاتا ہوں اور میری عقل دنگ ہو جاتی ہے۔جب میں سوچتا ہوں کہ آخر اللہ تعالیٰ نے یہ کام ہمارے سپرد کیوں کیا ؟ ہم سے زیادہ صحت مند لوگ دنیا میں موجود تھے، ہم سے زیادہ مال رکھنے والے لوگ دنیا میں موجود تھے ، ہم سے زیادہ بظاہر نمازیں پڑھنے والے لوگ دنیا میں موجود تھے، ہم سے زیادہ بظا ہر روزے رکھنے والے لوگ دنیا میں موجود تھے، ہم سے زیادہ تسبیحیں پھیرنے والے اور اپنی زندگی کوخلوت کی حالت میں، خدا تعالیٰ کی یاد میں گزار دینے والے لوگ دنیا میں موجود تھے۔آخر خدا نے ہم کو جو اس کام کے لئے چنا تو کوئی خوبی اللہ نے ہی دیکھی ہوگی ورنہ ہمیں تو وہ نظر نہیں آتی۔میں تو سمجھتا ہوں کہ یہ محض اس کا احسان ہے کہ اس نے یہ عظیم الشان کام ہمارے سپرد کیا۔یعنی ایسا کام جو دنیا کی مختلف اقوام گزشتہ کے کاموں سے بڑھ کر ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کی اتباع اور مماثلت کا ہے۔ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں کی قربانیاں دیکھتے ہیں تو حیرت آجاتی ہے کہ کس طرح وہ پیدل چلتے ہوئے، ایشیا سے لے کر یورپ تک تبلیغ کے لئے نکل گئے۔وہ پھانسیوں پر چڑھ گئے اور انہوں نے ہر قسم کے دکھ، نہایت خوشی 297