تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 242
اقتباس از خطبہ جمعہ فرموده 30 اپریل 1943ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم دیکھا۔وہ اس بات پر تو افسوس کا اظہار کر دیتے ہیں کہ جب سونا ساٹھ روپیہ تو لہ تھا، اس وقت ہم نے فلاں زیور کیوں فروخت کیا ؟ اب فروخت کرتے تو زیادہ رو پیدل جاتا۔مگر میں نے کسی احمدی کے منہ سے یہ نہیں سنا کہ اب سونا سخت مہنگا ہو گیا ہے، نئے زیورات کس طرح بنوائیں؟ می اسی لئے ہے کہ تحریک جدید کے تحت ہماری جماعت کے قلوب سے اسراف کی عادت خدا تعالیٰ کے فضل سے نکل گئی ہے۔مگر آج جس مضمون کی طرف میں خصوصیت کے ساتھ توجہ دلانا چاہتا ہوں، وہ یہ ہے کہ پہلے تو جماعت نے اس تحریک کو محض میری اطاعت کے طور پر مانا تھا مگر اب میں چاہتا ہوں کہ دوست اس بات کو دیکھیں کہ کس طرح خدا نے تحریک جدید کے زمانہ میں ہی ایسے حالات پیدا کر دیئے ہیں، جن کے نتیجہ میں لوگ اس بات پر مجبور ہورہے ہیں کہ اپنے حالات زندگی میں تغیر پیدا کریں اور کھانے اور پینے کی چیزوں میں کمی کریں؟ پس انہیں سمجھ لینا چاہئے کہ دنیا میں اس قسم کے زمانے بھی آتے رہتے ہیں، اس لئے انہیں نہ عارضی طور پر بلکہ مستقل طور پر اپنی عادتوں میں ایسا تغیر پیدا کرنا چاہئے اور اپنے حالات زندگی میں ایسی سادگی اختیار کرنی چاہئے کہ زمانہ کا رنگ کیسا ہی بدل جائے ، انہیں کوئی دکھ اور تکلیف محسوس نہ ہو۔میں نے بتایا ہے کہ جن حالات میں ہم روزانہ اپنی زندگی بسر کر رہے ہیں اور ہمیں ذرہ بھی تکلیف محسوس نہیں ہوتی ، وہ یورپین لوگوں کے لئے شدید مشکلات کا باعث بنے ہوئے ہیں۔بلکہ آج کل بھی جن حالات میں سے وہ گذر رہے ہیں، وہ ہمارے نزدیک تعیش کے سامان اپنے اندر رکھتے ہیں۔پس دنیا کے حوادث ایک سچے مومن کے لئے کسی تکلیف کا موجب نہیں ہو سکتے۔آخر رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے بڑھ کر دنیا میں اور کون ہے، جو اس بات کا مستحق ہو سکتا ہے کہ ایسے آرام اور راحت پہنچے؟ اگر کوئی چیز فائدہ کا موجب ہوسکتی ہے، اگر کوئی چیز ہماری زندگی کے لئے ضروری سمجھی جاسکتی ہے، اگر کوئی چیز ایسی ہے، جس سے ہم راحت اور آرام محسوس کر سکتے ہیں تو ہر مومن جس کے دل میں ایک ذرہ بھر بھی ایمان ہو، وہ ہر راحت اور آرام کی چیز کو استعمال کرتے وقت اس امر کی خواہش کرے گا کہ کاش اسے اس امر کی توفیق ہوتی کہ وہ اس راحت اور آرام کی چیز کو رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ذات کے لئے مہیا کر سکتا۔ہم دیکھتے ہیں، جن لوگوں کے دل میں کچی محبت تھی ، انہوں نے عملی طور پر اس کا ثبوت دے دیا۔حضرت عائشہ کے متعلق تاریخ میں آتا ہے کہ جس وقت سب سے پہلے ہوائی چکیاں آئیں اور مدینہ میں ان چکیوں کے ذریعہ میدہ کی طرح نہایت باریک آٹا تیار ہونے لگا تو حضرت عمرؓ نے حکم دیا کہ 242