تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 241 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 241

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 30 اپریل 1943ء اور جو کچھ گھر میں پکا ہو وہ اس کے سامنے لا کر رکھ دیتے ہیں۔ہمارے ملک میں غیر مذاہب کے اثر کے نیچے مہمان نوازی کا جذبہ بہت کم ہو گیا ہے اور ہر شخص خواہ اسے کتنی بڑی تنخواہ ملتی ہو، یہ سمجھتا ہے کہ میرا گزارہ اس تنخواہ میں نہیں ہوسکتا۔کسی کو اگر ہزار روپیہ تنخواہ ملتی ہے تو وہ فورا حساب لگا لیتا ہے کہ ڈیڑھ سو روپیہ کوٹھی پر خرچ آئے گا۔ڈیڑھ دو سوملازموں کی تنخواہوں پر صرف ہو جائے گا۔پھر اپنا دھوبی رکھنا پڑے گا ، جو کپڑے دھوئے گا۔اپنا نائی رکھنا پڑے گا، جو روزانہ ڈاڑھی مونڈے گا۔پھر اتنا روپیہ بیوی کے عطروں اور پوڈروں اور فیتوں پر خرچ آئے گا اور اس قدر روپیہ فرنیچر پر صرف ہو گا۔غرض اسی طرح وہ حساب لگا تا چلا جاتا ہے اور آخر میں اسے معلوم ہوتا ہے کہ آمد تو ہزار روپیہ ہے مگر میرا خرچ گیارہ بارہ سو روپیہ ہے یا آمد پانچ سو روپیہ ہے تو خرچ سات سو روپیہ ہے۔نتیجہ یہ ہوتا کہ اس کے ہاں جب کوئی مہمان آجاتا ہے، اسے دیکھتے ہی اس کی جان نکل جاتی ہے کہ میں تو آگے ہی مقروض ہوں، اسے کھانا کہاں سے کھلاؤں ؟ اسی وجہ سے F خصوصاً شہر بہت ہی بدنام ہیں۔لاہور کے متعلق تو عام لطیفہ مشہور ہے کہ جب کسی کے ہاں مہمان آتا ہے تو وہ پہلے اس سے یہ دریافت کرتا ہے کہ آپ کس گاڑی سے واپس جائیں گے؟ اور جب ریل کا وقت قریب آتا ہے تو میزبان کھانا لانے میں عمد اوبیر کر دیتا ہے اور جب بہت ہی تھوڑا وقت رہ جاتا ہے تو وہ آکر کہتا ہے کہ صاحب کھانا بھی تیار ہے اور ریل بھی تیار ہے۔مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ ریل کا وقت سن کر کھانا کہاں کھائے گا۔یہی کہے گا کہ اگر ریل کا وقت ہو گیا ہے تو پھر میں کھانا نہیں کھاتا، ایسانہ ہو میں رہ جاؤں۔غرض لاہور کے متعلق یہ لطیفہ عام طور پر مشہور ہے مگر اس سے مراد لاہور کے اصلی باشندے ہیں، باہر سے آنے جانے والے جو وہاں ٹھہرتے ہیں، ان میں کچھ مدت تک مہمان نوازی کی عادت قائم رہتی ہے۔ایسے موقعوں پر بعض لوگ ڈھیٹ بن کر کہہ دیا کرتے ہیں کہ بہت اچھا آپ کھانا لے آئیں، ہم کسی اور گاڑی پر روانہ ہو جائیں گے۔یہ سن کر وہ اس کھانے کے انتظام کے لئے دوڑتے ہیں۔کیونکہ در حقیقت انہوں نے پہلے کھانا تیار نہیں کیا ہوتا۔گو اس لطیفہ میں مبالغہ ہوگا اور یقینا ہے۔کیونکہ کسی ملک یا کسی شہر کے تمام افراد کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ جذ بہ مہمان نوازی سے عاری ہیں۔مگر اس میں کوئی شبہ نہیں کہ شہریوں نے اپنی ضرورتیں اتنی بڑھالی ہیں، اتنی بڑھالی ہیں کہ نیک کاموں میں خرچ کرنے کے لئے انہیں اپنی تنخواہوں میں گنجائش ہی نظر نہیں آتی۔مگر جن لوگوں نے تحریک جدید کے مطالبات پر عمل کیا ہے، انہیں جنگ کے باوجود خدا تعالیٰ کے فضل سے کوئی تکلیف نہیں۔میں لوگوں سے کئی دفعہ سنتا ہوں کہ سونا اب سور و پیر تولہ ہو گیا ہے، اب ہم زیورات کسی طرح بنوا سکیں؟ مگر میں نے آج تک کسی احمدی کو اس رنگ میں افسوس کا اظہار کرتے نہیں 241