تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 243 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 243

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 30 اپریل 1943ء سب سے پہلا آنا حضرت عائشہ کی خدمت میں بھیجا جائے تاکہ سب سے پہلے وہ اس آئے کو استعمال کریں، پھر کسی اور کو استعمال کرنے کے لئے دیا جائے۔وہ میدے کی طرز کا بار یک آنا حضرت عائشہ کی خدمت میں تحفہ بھیجا گیا اور عرض کیا گیا کہ سب سے پہلے آپ اس کی روٹی پکا کر کھائیں ، اس کے بعد اور لوگوں کو کھانے کی اجازت دی جائے گی۔حضرت عائشہ نے آٹا پکوایا اور اس کی روٹی کھانے لگیں۔اردگرد کی عورتیں یہ سن کر کہ ایک نئی قسم کا آٹا آیا ہے اور وہ نہایت ہی باریک ہے، حضرت عائشہ کے گھر میں جمع ہو گئیں۔ہم اس بات کو اچھی طرح نہیں سمجھ سکتے کہ عورتیں کیوں جمع ہوئیں؟ کیونکہ ہم مدتوں سے باریک آٹا استعمال کرتے چلے آرہے ہیں اور ہمارے لئے اس میں کوئی حیرت اور تعجب کی بات نہیں رہی۔مگر شروع شروع میں گاؤں کے لوگ بھی بڑے حیران ہوئے تھے اور جب مشینوں سے آٹا پس کر جاتا تو وہ ارد گرد سے اس کو دیکھنے کے لئے اکھٹے ہو جاتے تھے۔اسی طرح کا ایک مجمع حضرت عائشہ کے گھر میں جمع ہو گیا اور محلہ کی سب عورتیں اکٹھی ہو گئیں۔وہ پھلکوں کو ہاتھ لگا تیں اور کہتیں واہ واہ کیسے نرم پھلکے ہیں ؟ آخر وہ خادمہ جس نے پھلکے پکائے تھے، اس نے ایک دو پھلکے حضرت عائشہ کے سامنے رکھ دیئے اور حضرت عائشہ نے ایک لقمہ لیا اور منہ میں ڈالا۔مگر منہ میں لقمہ ڈالتے ہی آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔خادمہ کو شبہ ہوا کہ کہیں روٹی میں کوئی نقص نہ رہ گیا ہو، وہ کہنے لگی، بی بی روٹی تو بڑی نرم ہے اور بغیر سالن کے آپ ہی گلے سے اترتی جاتی ہے مگر آپ کی حالت سے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ لقمہ آپ کے گلے میں پھنس گیا ہے۔کیا روٹی میں کوئی نقص تو نہیں رہ گیا ؟ حضرت عائشہ نے فرمایا تمہارا اس میں کوئی قصور نہیں، روٹی بڑی نرم ہے۔مگر یہ واقعی میرے گلے میں پھنس گئی ہے۔کیونکہ منہ میں روٹی کا لقمہ ڈالتے ہی مجھے خیال آیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زمانہ میں چکیاں نہیں ہوا کرتی تھیں اور ہم بعض دفعہ پتھر پر پتھر رکھ کر گیہوں نہیں لیتے اور بسا اوقات رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے سامنے میں ایسے ہی موٹے اور بے چھنے آٹے کی روٹی رکھا کرتی تھی۔آج اس روٹی کا نرم نرم لقمہ مرے منہ میں جاتے ہی مجھے خیال آیا کہ اگر یہ چکیاں اس وقت ہوتیں تو میں اس آٹے کی روٹی پکا کر رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو کھلایا کرتی۔یہی خیال ہے جس کے آنے سے میری آنکھوں میں آنسو آگئے اور یہ لقمہ میرے گلے میں پھنس گیا۔اب دیکھ لو یہ بچے عشق کا نتیجہ ہے۔روٹی کی نرمی میں کوئی شبہ نہیں، آٹے کے اچھے ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔مگر جب اس نعمت کے استعمال کا وقت آیا تو جو محبوب ترین وجود تھا، اس کی طرف خیال چلا گیا کہ کاش یہ نعمت ہم اس کے سامنے رکھ سکتے۔243