تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 240
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 30 اپریل 1943ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم ہم دیکھتے ہیں کہ آج کل یورپ میں بڑا شور اس بات پر ہے کہ لوگوں کو ہوٹلوں میں دو دو، تین تین کھانوں سے زیادہ کھانے نہیں ملتے اور ان کے لئے یہ امر بڑی تکلیف کا موجب ہے۔لیکن ہمیں خدا تعالیٰ کے فضل سے تحریک جدید کے ماتحت، جو در حقیقت احیاء تھا رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تعلیم کا ، ایک کھانا کھانے میں ذرا بھی گھبراہٹ اور تکلیف محسوس نہیں ہوتی۔کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ ایک کھانا کھانے سے ہماری ضرورت پوری ہو جاتی ہے تعیش کے سامان ہم نے اپنے لئے پیدا ہی نہیں کئے کہ ان کے نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں تکلیف محسوس ہو۔غرض اللہ تعالیٰ نے اس ذریعہ سے ہمارے لئے ایسی آسانی پیدا کر دی ہے کہ جو بات ان کے لئے تکلیف کا موجب ہے، وہ ہمارے نزدیک نہ صرف تکلیف کا موجب نہیں بلکہ ہم اسے بھی تعیش قرار دیتے ہیں۔آج کل اخبارات میں بڑے بڑے لوگوں کی دعوتوں کا ذکر چھپتا ہے اور لکھا ہوتا ہے کہ یہ دعوت اتنی سادہ تھی، اتنی سادہ تھی کہ حد ہوگئی۔صرف شور ہا تھا، پنیر تھا، کچھ کباب تھے اور کچھ سیلڈ تھا۔اس طرح وہ تین چار کھانے گن دیتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ سادگی کی حد ہوگئی۔فلاں بادشاہ یا فلاں پریذیڈنٹ کے ہاں دعوت ہوئی اور اس دعوت میں صرف تین چار کھانے تیار ہوئے۔حالانکہ اگر ہم اسلامی طریق پر چلیں تو اتنے کھانے ہمارے نزدیک زمانہ امن کی بڑی بھاری دعوتوں میں سے ہونے چاہئیں۔روزانہ استعمال کے لئے اتنا ہی کافی ہوتا ہے کہ دال روٹی یا سالن روٹی یا دال یا سالن کے ساتھ چاول ہوں اور وہ کھانے کے لئے مل جائیں۔بلکہ ہمارے ملک میں بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو اس سے بھی محروم رہتے ہیں، انہیں نہ دال میسر آتی ہے نہ گوشت ، وہ صرف اچار سے روٹی کھا لیتے ہیں یا کسی کے ساتھ روٹی کھا لیتے ہیں۔چنانچہ جن جن علاقوں میں اسلامی تمدن زیادہ عرصہ تک جاری رہا ہے، وہاں یہی پرانا طریق اب تک جاری ہے۔سندھ میں چونکہ ایک لمبے عرصے تک اسلامی حکومت رہی ہے، اس لئے وہاں اب تک یہ دستور ہے کہ غربا السی کے ساتھ باجرے کی روٹی کھا لیتے ہیں اور امراء دودھ کے ساتھ باجرے کی روٹی کھا لیتے ہیں“۔وو۔اس کی وجہ یہی ہے کہ سندھ میں دیر تک اسلامی حکومت رہی ہے اور چونکہ سندھ ایک اسلامی ملک تھا، اس لئے کھانے پینے کے معاملہ میں مسلمان اس قدر اسراف سے کام نہیں لیتے تھے، جس قدر اسراف سے وہ لوگ کام لیا کرتے تھے، جو غیر ممالک میں تھے۔یہی وجہ ہے کہ وہاں کے لوگ بڑے مہمان نواز ہیں اور ان میں مہمان نوازی کی عادت بہت حد تک پائی جاتی ہے اور یہ صرف سندھ پر ہی منحصر نہیں۔جس جس ملک میں مسلمان زیادہ ہیں ، وہاں مہمان نوازی کی عادت لوگوں میں پائی جاتی ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ اسراف نہیں کرتے۔مہمان گھر پر آجائے تو انہیں ذرا بھی گھبراہٹ محسوس نہیں ہوگی 240