تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 220 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 220

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 04 دسمبر 1942ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم کے وعدہ کو قبول کرلیں گے کیونکہ وہ 1 3 جنوری کے بعد پہلی ڈاک میں آئے ہوں گے۔لیکن اس تاریخ کے بعد کوئی وعدہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ہاں اگر کوئی شخص اپنے وعدہ میں زیادتی کرنا چاہے تو وہ ہر وقت کر سکتا ہے۔مثلاً پہلے اس نے دس روپوں کا وعدہ کیا تھا، پھر وہ پندرہ روپے دینا چاہے تو اسے اختیار ہے کہ جب چاہے، اپنے وعدہ میں اضافہ کر لے۔اضافہ کرنے میں کوئی روک نہیں۔البتہ نیا وعدہ ہندوستان کے کسی دوست کی طرف سے 31 جنوری کے بعد قبول نہیں کیا جائے گا۔سوائے بنگال وغیرہ کے کہ ان کے وعدوں کے لئے اپریل کی آخری تاریخ مقرر ہے اور سوائے باہر کے ممالک کے کہ ان کے وعدوں کی آخری تاریخ 30 جون ہے یا سوائے ان لوگوں کے جو اس وقت برسر کا ر نہیں یا غریب ہیں اور دوران سال میں برسرکار ہو جائیں یا خدا تعالیٰ انہیں مال دے دے۔ان تاریخوں پر تمام دوستوں کو اپنے اپنے وعدے بھجوانے کی کوشش کرنی چاہئے۔اس کے بعد میں پھر اس امر پر زور دینا چاہتا ہوں کہ جماعت کو چاہئے ، وہ خصوصیت سے تحریک جدید کے ان آخری سالوں میں زیادہ سے زیادہ قربانی کرے۔میں جانتا ہوں کہ بعض دوست ایسے ہیں، جنہوں نے تحریک جدید کے چندہ میں زیادہ سے زیادہ قربانی کرنے کی کوشش کی ہے۔لیکن ابھی بہت سے دوست ایسے ہیں، جنہوں نے اس رنگ میں نمایاں قربانی نہیں کی۔میں سمجھتا ہوں کہ دوستوں کی ایک ایسی شمار میں آنے والی مقدار ہے جن کے وعدے ان کی آمدنیوں کے مطابق نہیں۔ان دوستوں کو میں توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنی آمد نیوں کے مطابق یا قربانی کی حد تک وعدے کریں۔اس کے ساتھ ہی میں اس امر کی طرف بھی توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ ابھی پندرہ میں ہزار روپیہ کے وعدے سال ہشتم کے وعدوں میں سے پورے ہونے باقی ہیں۔ان میں سے بعض مہلتیں لے رہے ہیں اور جن کو حقیقی مشکلات درپیش ہیں، انہیں مہلتیں دی جارہی ہیں۔لیکن باقی دوست جنہوں نے ابھی تک نہ اپنا وعدہ پورا کیا ہے اور نہ چندے کی ادائیگی کے لئے کوئی مہلت لی ہے۔انہیں میں یہ کہتا ہوں کہ وہ اب نئے سال کے وعدے کی خوشی میں نہ بیٹھ جائیں بلکہ کوشش کریں کہ ان کا گزشتہ سال کا وعدہ جلد سے جلد پورا ہو جائے۔اگر وہ 30 نومبر تک اپنے وعدوں کو پورا نہیں کر سکے تھے تو اب کم سے کم جلسہ سالانہ تک اپنے وعدوں کو پورا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے یا زیادہ سے زیادہ 31 جنوری تک اپنے وعدے پورے کر دیں۔اگر وہ گزشتہ سال کے وعدوں کو 31 جنوری تک پورا کر دیں تو سال رواں کے بجٹ پر اچھا اثر پڑے گا اور ان رقوم کے ذریعہ اس سال کے اخراجات پورے ہو سکیں گے اور ہم ابھی سے اگلے سال کے روپیہ میں سے خرچ کرنے پر مجبور نہیں ہوں گے۔220