تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 221 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 221

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔۔۔جلد دوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 04 دسمبر 1942ء پھر جیسا کہ میں نے بتایا ہے تحریک جدید کے دوسرے حصوں کو بھی مد نظر رکھنا چاہئے اور خصوصیت سے دعاؤں پر زور دینا چاہئے۔میں نے پچھلی دفعہ بھی توجہ دلائی تھی کہ جو لوگ اس تحریک کے مالی مطالبہ میں حصہ نہیں لے سکتے ، وہ دعاؤں پر زور دے کر اس تحریک میں حصہ لے سکتے ہیں۔انہیں چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور اخلاص سے اور بار بار دعا ئیں کریں کہ اللہ تعالٰی اس تحریک میں ان لوگوں کو زیادہ سے زیادہ حصہ لینے کی توفیق عطا فرمائے، جن کو اس نے اپنے فضل سے مالی وسعت عطا فرمائی ہوئی ہے۔اس غرض کے لئے وہ جتنی زیادہ دعائیں کریں گے اور جتنا جوش ان کی دعاؤں کی وجہ سے لوگوں کے قلوب میں پیدا ہوگا اور جس قدر زیادہ وہ اس تحریک میں حصہ لیں گے، اس قدر ان کو بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ثواب ملے گا۔پھر وہ یہ بھی دعا کریں کہ جن لوگوں نے وعدے کئے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو بھی جلد سے جلد اپنے وعدے پورے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔وعدہ کرنا آسان ہوتا ہے لیکن اسے پورا کرنا مشکل ہوتا ہے۔پس ان لوگوں کے لئے بھی دعا ئیں کرنی چاہئیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے وعدے پورے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔میں اس موقعہ پر اس خوشی کا اظہار کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ میں نے پچھلے سے پچھلے سال سے اس بات پر زور دینا شروع کیا تھا کہ دوستوں کو اپنے وعدے جلد پورے کرنے چاہئیں۔سو اس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کے فضل سے پچھلے سال بھی وصولی اچھی رہی تھی اور اس سال تو وصولی کی رفتار گزشتہ سال سے بھی بہتر رہی ہے اور دوستوں نے اپنے وعدوں کو بر وقت پورا کرنے کی کوشش کی ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ انہیں اس خلوص اور ایثار کی زیادہ سے زیادہ بہتر جزا دے۔میں امید کرتا ہوں کہ اس سال بھی جہاں دوست اس بات کی کوشش کریں گے کہ ان کے وعدے گزشتہ سالوں سے اضافہ کے ساتھ ہوں، وہاں وہ اس بات کی بھی کوشش کریں گے کہ ان وعدوں کو جلد سے جلد پورا کریں اور اس بارہ میں دعا کرنے والے ہماری بہت بڑی مدد کر سکتے ہیں۔در حقیقت دل اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہیں اور اگر وہ قربانیوں کے لئے لوگوں کے دل پھیر دے تو پھر قربانی کے راستہ میں کوئی چیز روک نہیں بن سکتی۔آخر ابو بکر اور عمر کا دل ہی تھا، جو زیادہ سے زیادہ قربانیوں پر تیار رہتا تھا اور جب بھی رسول کریم صلی الہ علیہ وسلم کوئی تحریک فرماتے ، وہ کوشش کرتے کہ قربانیوں میں دوسروں سے بڑھ کر ر ہیں۔ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بڑی بھاری تحریک فرمائی۔حضرت عمر نے فیصلہ کیا کہ میں آج سب سے بڑھ کر قربانی کروں گا۔چنانچہ وہ اپنے گھر میں آئے اور اپنا آدھا مال اٹھا کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں پہنچے، وہ دل میں یہ خیال کرتے جارہے تھے کہ کوئی اپنے مال کا 221