تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 210
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 27 نومبر 1942ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم ہے کہ اصل چیز گانا ہی ہے، باقی چیزیں یونہی شامل کر لی گئی ہیں۔تمہارا یہ کام ہے کہ جس دن خدا تعالیٰ تمہیں حکومت دے، تم ریڈیو کے ان گندے انتظاموں کو بدل دو اور سب ڈوموں اور میراثیوں اور کنچنیوں کو رخصت کر دو اور ان کی بجائے علمی چیزیں ریڈیو کے ذریعہ نشر کرو۔دنیا کے مذاق کو بنانا ہمارا کام ہے، اس کے مذاق کو بگاڑنا ہمارا کام نہیں۔یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی شخص لوگوں کو غریبوں کی مدد کرنے کی تحریک کرنا چاہے تو وہ اس کا طریق یہ نکالے کہ اپنی بیوی اور بیٹیوں کو ننگا کر کے باہر لے جائے اور جب لوگ اکٹھے ہو جائیں تو وہ انہیں کہے کہ غریبوں کی مدد کیا کرو۔بے شک غریبوں کی مدد کرنا اچھا کام ہے مگر اس کے لئے غلط طریق اختیار کرنا کس طرح جائز ہو سکتا ہے؟ اسی طرح بے شک ریڈیو کے ذریعہ بعض اچھی چیزیں بھی نشر کی جاتی ہیں مگر ناچ اور گانا ایسی گندی چیزیں ہیں ، جس نے ہر گھر کو ڈوم اور میراثی بنادیا ہے اور ہماری جماعت کا فرض ہے کہ وہ اپنے آپ کو اور باقی دنیا کو اس ضرر سے بچائے اور اس کا صرف مفید پہلو قائم رکھے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے: لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمُ ( المائدة 106) جب تم ہدایت پر ہو تو تمہیں دوسرے کی گمراہی کی پرواہ بھی نہیں کرنی چاہئے۔اگر تم صحیح راستے پر چل رہے ہو اور دوسرا شخص تمہارے ساتھ یہ شرط کرنا چاہتا ہے کہ تم صحیح راستے کو چھوڑ کر غلط راستے کو اختیار کرلوں تو فرماتا ہے ایسے شخص کو تم بے شک گمراہ ہونے دو مگر صحیح راستے کو ترک نہ کرو۔تو ان چیزوں کو دنیا سے تم نے مٹانا ہے اور تمہارا فرض ہے کہ خدا تعالیٰ تمہیں جب حکومت اور طاقت عطا فرمائے تو جس قدر ڈوم اور میراثی ہیں، ان سب کو رخصت کر دو اور کہو کہ جا کر حلال کمائی کماؤ۔ہاں جغرافیہ یا تاریخ یا مذہب یا اخلاق کا جو حصہ ہے، اس کو بے شک رہنے دو اور اعلان کر دو ، جس کی مرضی ہے، ریڈیو سنے اور جس کی مرضی ہے، نہ سنے۔اس وقت ریڈیو والوں نے ایک ہی وقت میں دو نہریں جاری کی ہوئی ہیں۔ایک نہر میٹھے پانی کی ہے اور دوسری نہر کڑوے پانی کی ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں بھی دو نہروں کا ذکر کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ ایک نہر میں تو میٹھا پانی ہے مگر دوسری نہر میں کڑوا پانی ہے۔میں جب بھی ریڈیوسنتا ہوں تو مجھ پر یہی اثر ہوتا ہے کہ یہی دو نہریں ہیں، جن کا قرآن کریم نے ذکر کیا ہے۔اس سے ایک طرف میٹھا پانی جاری ہوتا ہے اور دوسری طرف کڑوا پانی جاری رہتا ہے۔اللہ تعالی قرآن کریم میں فرماتا ہے ، ان کا کوئی نتیجہ نہیں 210