تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 211
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد دوم اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 27 نومبر 1942ء نکل سکتا اور یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ کڑوی نالی کے ہوتے ہوئے میٹھا پانی غالب آ جائے۔میٹھا پانی اس صورت میں غالب آ سکتا ہے، جب کڑوے پانی کی نالی کو بالکل بند کر دیا جائے۔پس میں نوجوانوں سے کہتا ہوں کہ ان میں سے بعض سے صرف اس مطالبہ کو پورا کرنے میں کو تا ہی ہوئی ہے۔مگر میں امید کرتا ہوں کہ آئندہ وہ اپنی اصلاح کریں گے اور اس نقص کو دور کرنے کی کوشش کریں گے۔اس وقت میرے سامنے بورڈ نگ تحریک جدید کے لڑکے بیٹھے ہوئے ہیں۔مجھے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے بعض بے ٹکٹ گاڑی پر سوار ہو کر اور اس طرح گورنمنٹ کے روپیہ کو چرا کر بٹالے جاتے اور وہاں سی نماد یکھتے ہیں اور پھر بے ٹکٹ ہی واپس آتے ہیں۔میں یہ نہیں کہتا کہ سارے ایسے ہیں۔میں یہ نہیں کہتا کہ بہت سے ایسے ہیں۔میں یہ بھی نہیں کہتا کہ معتد بہ ایسے ہیں۔ہاں میں یہ ضرور کہتا ہوں اور تحقیق سے کہتا ہوں کہ کچھ لڑکے ایسے ہیں، جو اس قسم کی حرکت کرتے ہیں۔گویا وہ تین حرام خوریاں کرتے ہیں۔وہ گورنمنٹ کی چوری کر کے بٹالے جاتے ہیں، وہ سلسلہ کی چوری کر کے سینما دیکھتے ہیں اور پھر گورنمنٹ کی چوری کر کے واپس آتے ہیں۔شاید تم سمجھتے ہو کہ گورنمنٹ کی دو چوریوں میں سلسلہ کی ایک چوری حلال ہو جاتی ہے، مگر یہ بالکل غلط ہے۔دو چوریوں میں ایک اور چوری حلال نہیں ہو جاتی بلکہ وہ اور بھی گندی ہو جاتی ہے۔جیسے اور چوریاں بری ہیں، ویسے ہی گورنمنٹ کی چوری بھی بری ہے۔پس تم میں سے بعض نوجوانوں کا یہ خیال کہ گورنمنٹ کی چوری، چوری نہیں ہوسکتی ، بالکل غلط ہے۔چوری چوری ہی ہے۔خواہ وہ رسول کی ہو، نبی کی ہو، گورنمنٹ کی ہو، دوست کی ہو، دشمن کی ہو۔اسی طرح ایک کنچنی کی چوری بھی چوری ہے۔اگر تم کسی ڈاکو کا مال اٹھا لیتے ہو تو یہ بھی ویسی ہی چوری ہے جیسے کسی اور کی چوری۔لوگوں کے دلوں میں یہ غلط خیال بیٹھا ہوا ہے کہ گورنمنٹ کی چوری، چوری نہیں ہوتی۔حالانکہ وہ بھی ویسی ہی چوری ہوتی ہے جیسے کوئی اور چوری۔جب تم چھپ کر ریل کے خانے میں جا کر بیٹھ جاتے ہو اور دل میں سمجھتے ہو کہ یہ ناجائز صورت کہاں ہے؟ گارڈ ہمارا واقف ہے۔وہ ہم پر کوئی گرفت نہیں کرے گا تو اس وقت بھی تم گناہ کے مرتکب ہوتے ہو۔کیونکہ وہ گورنمنٹ کا مال ہے، گارڈ کے باپ کا مال نہیں۔اگر گارڈ تم کو مفت لے جانا چاہتا ہے تو تم اسے کہو کہ چل کر ایجنٹ کے سامنے کہہ دو کہ میں اسے بلا ٹکٹ لے جانا چاہتا ہوں۔پھر اگر اس کی نوکری رہ جائے تو بے شک تم مفت چلے جاؤ اور اگر وہ ملازمت سے برطرف کر دیا جائے تو تمہیں سمجھ لینا چاہئے کہ گارڈ کی واقفیت کی بناء پر بلائنٹ سفر کرنا بھی ویسا ہی جرم ہے جیسے کسی اور صورت میں بلا ٹکٹ سفر کرنا۔یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے کسی کے مکان پر پہرہ لگا ہو تو وہ کہے کہ میں پہرہ دار 211