تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 208
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 27 نومبر 1942ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد دوم پہنچتی رہی ہیں کہ وہ ممانعت کے باوجود سینما دیکھنے کے لئے چلے جاتے ہیں۔یہ ایک بہت بڑی کمزوری ہے، جس سے ہماری جماعت کے نوجوانوں کو بیچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔در حقیقت سنیما نے ہمارے ملک کی طبائع پر ایسا برا اثر ڈالا ہے کہ لوگ اسے دیکھنے کے لئے بیتاب رہتے ہیں۔اور میرے پاس تو جس وقت بعض نوجوان سینما دیکھنے کی خواہش کا اظہار کرتے اور اس کے متعلق لجاجت اور خوشامد کرتے ہیں تو مجھے یوں معلوم ہوتا ہے ، وہ یہ لجاجت کر رہے ہیں کہ ہمارا باپ ڈوب رہا ہے، اسے بچانے کی اجازت دی جائے۔زمانہ کی ایک رو ہے جو طبائع پر اثر کر رہی ہے۔لیکن اس زبردست خواہش کے باوجود ہماری جماعت میں ایسے نوجوان ہیں، جنہوں نے اپنے نفسوں کو روکا اور باوجود اس کے کہ انہیں سنیما دیکھنے پر مجبور کیا گیا، انہوں نے سنیما نہیں دیکھا۔ایک دوست نے ایک دفعہ لکھا کہ اسے بعض دوست پکڑ کر سنیما دکھانے لے گئے۔اس نے جانے سے انکار کیا تو انہوں نے بہانہ بنایا اور کہا کہ ہم سنیما کونہیں بلکہ سیر کو چلتے ہیں۔پھر انہی میں سے ایک شخص جا کر ٹکٹ لے آیا اور کہا کہ اب تو ہمارے پیسے بھی خرچ ہو گئے ہیں۔اب تو تمہیں ضرور سنیما دیکھنا چاہیے مگر اس نے پھر بھی انکار کیا۔آخر وہ اس کے ہاتھ پاؤں پکڑ کر سنیما کی طرف لے گئے اور جبر اہال میں بٹھا دیا۔جب سنیما شروع ہوا اور اس کے ہاتھ پاؤں ڈھیلے ہوئے تو معاً اس نے چھلانگ لگائی اور دوڑ کر باہر نکل گیا۔سنیما والے بھی حیران ہو گئے کہ اسے کیا ہو گیا ہے؟ آخر اس کا یہ اثر ہوا کہ اس کے دوستوں نے اقرار کیا کہ ہم آئندہ سنیما نہیں دیکھیں گے۔تو ہماری جماعت میں ایسے ایسے نمونے بھی پائے جاتے ہیں۔مگر اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض نوجوانوں نے کمزوری دکھائی ہے۔میں آج ان کو پھر توجہ دلاتے ہوئے کہتا ہوں کہ تم سے تو ہماری آئندہ بہت سی امیدیں وابستہ ہیں۔جب تمہارے باپ دادا اور دوسرے رشتہ دار مر جائیں گے، اس وقت تم نے ہی اس امانت کو سنبھالنا ہے۔اگر تم پہلوں سے زیادہ مضبوط نہیں ہو تو ہمارے لئے کوئی خوشی نہیں ہو سکتی۔ہماری خوشی تو اس بات میں ہے کہ ہم اگر ایک قدم چلیں تو تم دو قدم چلو۔ہم تین قدم چلیں تو تم چار قدم چلو۔جب تک تم ہم سے زیادہ قربانی کرنے والے، ہم سے زیادہ جرات رکھنے والے اور ہم سے زیادہ دلیری دکھانے والے نہیں بنتے ، اس وقت تک سلسلہ کی امانت محفوظ ہاتھوں میں نہیں رہ سکتی۔پس میں تمہیں کہتا ہوں کہ تم بہادر بنو اور اپنے نفسوں کے غلام مت بنو۔تمہارے قبضہ میں آئندہ دنیا کی حکومتیں آنے والی ہیں اور تمہارا فرض ہے کہ آئندہ زمانہ میں جب خدا تعالیٰ تمہیں حکومت اور سلطنت عطا فرمائے تو جس طرح محمود غزنوی نے مندر توڑ ڈالے تھے۔اسی طرح تم ریڈیو کے وہ ٹرانسمیٹر توڑ ڈالو، 208