تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 207
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 27 نومبر 1942ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم ہو جائے گی، اس میں قربانی اور ایثار کی روح کم ہو جائے گی ، وہ اس تحریک میں حصہ لے گی تو اور تحریکوں میں حصہ نہیں لے سکے گی۔مگر خدا تعالیٰ نے اس تحریک کے بعد جماعت کو ہر نئی تحریک میں پورے جوش اور اخلاص کے ساتھ حصہ لینے کی توفیق عطا فرما کر بتا دیا کہ ہماری کمریں پہلے سے زیادہ مضبوط ہوگئی ہیں، ہمارے ہاتھ پہلے سے زیادہ لمبے ہو گئے ہیں، ہمارا ایثار پہلے سے زیادہ بڑھ گیا ہے، ہمارا خدا ہم سے پہلے سے زیادہ قریب آگیا ہے اور ہم پہلے سے بھی اونچے نظر آتے ہیں۔گویا وہی بات ہماری جماعت پر صادق آرہی ہے کہ ہونہار بروا کے چکنے چکنے پاتے۔خدا تعالیٰ کے فضل سے چکنے چکنے پات نکل رہے ہیں اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ خدا تعالیٰ اس کو بہت بڑا درخت بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ورنہ یہ چکنائی، یہ سرسبزی اور یہ شادابی کس طرح پیدا ہوتی ؟ غرض جس چیز کو لوگوں نے تباہی سمجھا تھا، وہی ہماری ترقی کا ذریعہ بن گئی۔لوگ مجھے کہتے تھے کہ تم نے جماعت پر ایسا بوجھ ڈالا ہے کہ اس کی کمر توڑ ڈالی ہے۔مگر جماعت نے اپنی قربانیوں سے بتادیا کہ اس کی کمر ٹوٹی نہیں بلکہ پہلے سے بہت زیادہ مضبوط ہوگئی ہے۔چنانچہ انجمن کے قرضوں کا بہت حد تک اتر جانا، نئی تحریکات کا جماعت میں قبولیت حاصل کرنا اور لوگوں کا اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا اور اس تحریک میں لینے والوں کا اپنے چندوں کو ہر سال پہلے سال سے بڑھاتے چلے جانا، اس بات کا ثبوت ہے کہ ہماری جماعت اپنے ایمان اور اپنی قربانیوں میں پہلے سے کئی گنا ترقی کر گئی ہے۔اب اگر ہمیں اپنے اندر کچھ کمزوریاں نظر آتی ہیں تو وہ ایمان کی ترقی کی وجہ سے نظر آتی ہیں اور ان کمزوریوں کا دکھائی دینا، اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے ایمان پہلے سے بہت زیادہ بڑھ چکے ہیں۔اب ہمیں ایک کھانا کھانا بھی کمزوری دکھائی دیتا ہے۔حالانکہ پہلے ہمارے لئے دو کھانوں کا چھوڑ نا سخت مشکل تھا۔اب ہم چاہتے ہیں کہ اگر ہو سکے تو اس سے بھی زیادہ سادگی اختیار کریں اور اب اگر کسی ضرورت کے موقع پر ہمارے دستر خوان پر دو کھانے آجاتے ہیں تو ہمیں یوں معلوم ہوتا ہے کہ ہمارا کھانا حلال کا نہیں رہا بلکہ حرام کا ہو گیا ہے۔پس یہ کمزوری جو دکھائی دیتی ہے، محض اس لئے ہے کہ ہمارے دوستوں کے ایمان اتنے پختہ اور مضبوط ہو چکے ہیں کہ جن باتوں کو وہ پہلے قربانی سمجھا کرتے تھے، ان کو وہ اب اپنی کمزوری نظر آتی ہے۔پس یہ خوبی کی بات ہے اور اس بات کا ثبوت کہ ہم ترقی کے میدان میں نیا قدم بڑھانے کے لئے تیار ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض حصوں میں جماعت نے کمزوری بھی دکھائی ہے مثلا سینما د یکھنے کی ممانعت کے متعلق جو حکم میں نے دیا تھا، اس سلسلہ میں بعض نوجوانوں کے متعلق میرے پاس شکایتیں 207