تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 204 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 204

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 27 نومبر 1942 ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم گی۔میرا اپنا خیال بھی بعض پیشگوئیوں کے مطابق یہی ہے کہ 44ء میں جنگ ختم ہو جائے گی اور شاء میں ہی تحریک جدید ختم ہوتی ہے اور چونکہ بعض دفعہ جزو بھی ساتھ ہی شامل ہوتا ہے، اس لئے یہ بھی ممکن ہے کہ 45ء میں بھی چند ماہ تک یہ جنگ چلی جائے۔بہر حال اب یہ جنگ بظاہر دو تین سال میں ختم ہونے والی ہے۔اگر ہماری جماعت کے دوست اس تحریک میں پورے زور سے حصہ لیں تو یہ سکیم کہ اس روپیہ سے ایک ایسی جائیداد پیدا کی جائے ، جس سے اشاعت اسلام کے مستقل خرچ ہم پورے کر سکیں، اس عرصہ میں خدا تعالیٰ کے فضل سے مکمل ہو جائے گی اور در حقیقت پھر بھی اللہ تعالیٰ کا فضل ہی ہے، جو اسے نتیجہ خیز بنا سکتا ہے۔ورنہ کیا جائیدادیں دنیا میں تباہ نہیں ہو جاتیں؟ قادیان میں ہی دیکھ لو قادیان کے اردگرد گاؤں کے گاؤں ہمارے باپ دادا کی ملکیت تھے مگر اب ملکیت چھوڑ سکھ ہمارے سخت دشمن ہیں اور گو اب حالات خدا تعالیٰ کے فضل سے اچھے ہو گئے ہیں مگر ایک زمانہ ایسا گزرا ہے کہ ان گاؤں میں ملکیت چھوڑ ہمارے لئے پانی پینا بھی مشکل تھا۔تو اگر اللہ تعالیٰ کا فضل شامل حال نہ ہو تو بڑی بڑی جائیداد میں تباہ ہو جاتی ہیں۔بہر حال ہمارا فرض یہی ہے کہ جس قدر کام کر سکتے ہوں، کریں اور باقی کے متعلق اللہ تعالیٰ پر تو کل کریں۔مگر میں نے دیکھا ہے کئی لوگ ایسے ہیں، جن کو سارا تو کل اللہ تعالیٰ کے کاموں کے متعلق ہی سوجھتا ہے، گھر کے کاموں کے متعلق نہیں سوجھتا۔جب خدا تعالیٰ کے دین کے لئے کسی جائیداد کا سوال آجائے تو کہہ دیں گے، پتہ نہیں کل کیا ہو جانا ہے، جائیداد بنا کر کیا کرنا ہے؟ مگر ان کی اپنی حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ کہتے ہیں یہ کوٹھڑی بھی بن جائے ، وہ پاخانہ بھی تیار ہو جائے۔گویا انہیں سارا تو کل اللہ تعالیٰ کے لئے ہی سوجھتا ہے، گھر کے لئے نہیں سوجھتا۔گھر کے لئے اس شدید گرانی کے ایام میں بھی چیزیں تیار ہوتی چلی جاتی ہیں۔یہاں آج کل جنگ کی وجہ سے کوئی احمدی بھٹے والا نہیں اور ضرورت کے وقت ہندو بھٹے والے سے اینٹیں خریدی جاتی ہیں۔میں نے دیکھا ہے باوجود شد ید گرانی کے عموماً درخواستیں آتی رہتی ہیں کہ شدید ضرورت کے لئے دس ہزار اینٹوں کی ضرورت ہے، خریدنے کی اجازت دی جائے۔کوئی لکھتا ہے شدید ضرورت کے لئے چالیس ہزار اینٹوں کی ضرورت ہے۔حالانکہ آجکل 21 22 روپے ہزارا سینٹ ملتی ہے مگر پھر بھی لوگ خرید تے چلے جاتے ہیں۔لیکن جہاں خدا اور اس کے دین کا سوال آجائے ، وہاں کہنے لگ جاتے ہیں کہ اس کو جانے دو خبر نہیں کل کیا ہو جائے گا؟ یہ ستوں کی علامت ہے، مومنوں کی نہیں۔مومن تو کہتا ہے کہ خدا کا کام ہونا چاہئے، میرا کام اگر رہتا ہے تو بیشک رہ جائے اور اگر یہ مقام کسی کو حاصل نہیں تو کم سے کم اتنا تو ہونا چاہئے کہ اللہ کا کام بھی انسان کرتا رہے اور اپنا کام بھی کرتا رہے۔204