تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 203 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 203

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 27 نومبر 1942ء اس کے مقابلہ میں تحریک جدید سے میری غرض یہ تھی کہ اس میں مالدار لوگ زیادہ حصہ لیں اور جو مالدار نہیں، وہ اس میں مالی حصہ نہ لیں۔ہاں میں نے یہ کہہ دیا کہ جس کے پاس اس قدر روپیہ نہیں کہ وہ اس تحریک میں حصہ لے سکے، وہ بھی اس تحریک میں حصہ لے سکتا ہے، بشرطیکہ وہ تحریک جدید کی کامیابی اور احمدیت کی ترقی کے لئے باقاعدہ دعائیں کرے۔اگر میں یہ شرط نہ کرتا تو ایک غریب آدمی دھیلہ یا پیسہ دے کر بھی تحریک جدید میں شامل ہو جاتا۔مگر اب وہ مجبور ہے کہ باقاعدہ دعائیں کرے تا کہ اللہ تعالیٰ کے حضور وہ بھی تحریک جدید میں حصہ لینے والوں میں سے سمجھا جائے۔اور میں جانتا ہوں ہماری جماعت میں سینکڑوں لوگ ایسے ہیں کہ جب میں دعا کی تحریک کرتا ہوں تو وہ اس کے بعد مہینوں با قاعدہ دعا میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ان کا اس دعا میں شامل ہونا کیا روپیہ دینے سے کم ہے ؟ اگر یہ اجازت دے دی جاتی کہ جس قدر جی چاہے دے دو تو کوئی پیسہ دے کر اور کوئی آنہ دے کر سمجھ لیتا کہ وہ بھی تحریک جدید میں شامل ہو گیا ہے۔مگر اب وہ سب اس بات پر مجبور ہیں کہ دعائیں کریں۔کیونکہ وہ سمجھتے ہیں روپیہ دے کر وہ اس تحریک میں شامل نہیں ہو سکے۔اب ان کے لئے اس تحریک میں شامل ہونے کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ یہ کہ وہ کثرت سے اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کریں۔گویا اس طریق سے کام لے کر روپیہ بھی زیادہ مل گیا اور دعائیں بھی زیادہ مل گئیں۔اس سے زیادہ نفع بخش کام اور کون سا ہو سکتا ہے؟ پس میں نے ایک حد بندی مقرر کر کے جماعت کے ایک حصہ کو شمولیت سے محروم نہیں کیا بلکہ میں نے اپنے دعاؤں کے خانہ کو بھی بھر لیا اور اپنے روپے کے خانہ کو بھی بھر لیا۔گویا ایک تحریک سے دونوں کام ہو گئے اور اس طرح چوتھی چیز جو اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب کرنے کے ساتھ تعلق رکھتی ہے، وہ بھی ہماری جماعت کو میسر آگئی۔غرض جماعت کے اندر وہ روح پیدا کرنا، جس کی قربانیوں کے لئے ضرورت ہوتی ہے، قربانی کرنے والے وجودوں کو مہیا کرنا اور خدا تعالیٰ کے فضل کو کھینچنے کے سامان ہونا، یہ ساری چیز میں تحریک جدید میں شامل ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کا ہی فضل اور اس کا مخفی الہام تھا، جس نے ایسی مکمل تحریک نازل کی۔ورنہ میرے علم اور میرے ارادہ میں اس قسم کی کوئی مکمل تحریک نہیں تھی۔اللہ تعالیٰ نے ہی ہمارے لئے ہر قسم کے سامان بہم پہنچائے اور دوسری طرف سے اس کے فضل سے دنیا میں ایسے تغیرات پیدا ہوئے اور ہورہے ہیں، جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ارادہ دنیا میں ایک عظیم الشان انقلاب پیدا کرنے کا ہے۔پس پیشتر اس کے کہ جنگ ختم ہو، ہمیں جلد سے جلد اشاعت دین کے لئے ایک مستقل بنیاد قائم کر دینی چاہئے۔عام طور پر لوگوں کے اندر یہ خیال پایا جاتا ہے کہ دو سال کے اندر اندر جنگ ختم ہو جائے 203