تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 190 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 190

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 16 اکتوبر 1942ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم نے جبر سے کام لیا ہو اور تلوار اٹھائی ہو اور کسی کے سر پر تلوار رکھ کر کہا ہو کہ مانو ورنہ قتل کر دیئے جاؤ گے۔یہ بات خدا تعالیٰ کی صفات کے خلاف ہے اور انبیا ء خدا تعالیٰ کی صفات کے خلاف کبھی کوئی کام نہیں کرتے۔جب بھی کسی نبی نے تلوار اٹھائی ہے اور لڑائی کی ہے، دفاع کے طور پر ہی کی ہے۔گویا جس حد تک تبلیغ میں جنگ کے مواقع پیدا ہوئے ہیں، وہ دشمن نے ہی بہم پہنچائے ہیں، انبیاء نے خود پیدا نہیں کئے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ اسلام کی حکومت عرب پر قائم ہو گئی تھی ، اس لئے لوگوں نے مان لیا۔مگر سوال یہ ہے کہ حکومت قائم ہونے کے سامان کس نے پیدا کئے؟ پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تلوار اٹھائی یا کافروں نے؟ اور جب اسلام کی حکومت قائم ہونے کے سامان خود کافروں نے مہیا کئے تو الزام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کس طرح آسکتا ہے؟ اگر کوئی شخص خود آ کر کہے کہ مجھے کلمہ پڑھاؤ تو اسے کلمہ پڑھا دینا جبر نہیں کہلا سکتا۔اور اگر عرب پر اسلام کی حکومت قائم ہونا اعتراض کی بات ہے تو کسی کے کہنے پر اسے کلمہ پڑھانے کو بھی جبری کہنا پڑے گا۔عرب پر اسلام کی حکومت قائم ہونے کا دروازہ خود کافروں نے کھولا اور جو دروازہ دوسرا کھولے، وہ جبر نہیں کہلا سکتا۔ہاں اگر انسان خود جا کر لالچ یا حرص دلا کر کسی کو منا لے تو یہ مالی جبر کہلائے گا یا اگر تلوار دکھا کر منا لے تو یہ تلوار کا جبر ہو گا۔لیکن عرب پر اسلام کی حکومت کا رستہ خود کافروں نے کھولا اس لئے یہ جبر نہیں۔جس طرح اگر کوئی خود آکر اطاعت قبول کرے تو یہ جبر نہیں کہلا سکتا۔ایک شخص اگر خود تحقیق کرے اور پھر تصدیق کر کے خواہش کرے کہ مجھے کلمہ پڑھاؤ تو کوئی معظمند سے جبر نہیں کہ سکتا۔پس جب لڑائی کا سامان خود دشمن کرے اور اس کے نتیجہ میں صداقت پھیلے تو یہ جبر نہیں کہلا سکتا کیونکہ اس کے پھیلنے کے سامان خود دوسرے نے کئے ہیں۔ہاں اگر ماننے والا جھوٹے طور پر مانتا ہے تو یہ بھی اس کی منافقت ہوگی۔کیونکہ اسی نے پہلے سامان پیدا کیا اور پھر خود ہی منافقت کے طور پر مان لیا۔پس منافقت بھی اسی کے ذمہ ہوگی اور اخلاص بھی اسی کے ذمہ ہوگا۔بہر حال کبھی کسی نبی نے جبر سے کام نہیں لیا اور دوسروں پر جبر کر کے اسلام نہیں پھیلایا۔ہاں یہ ہوتا رہا ہے کہ دشمنوں کی طرف سے ایسے سامان پیدا کر دئیے جاتے تھے کہ صداقت کو ظاہری شان و شوکت حاصل ہو جاتی تھی اور اس سے بھی بعض لوگ متاثر ہو جاتے تھے۔مگر ہماری جماعت کو اللہ تعالیٰ نے اس ظاہری شان و شوکت سے بھی محروم رکھا ہے اور فرمایا ہے کہ اس کی ترقی تبلیغ سے ہی ہوگی۔گو جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے، ضروری نہیں کہ ہمیشہ ہی ایسا ہو۔ہو سکتا ہے کسی زمانہ میں دشمن احمدیت کے خلاف تلوار اٹھائے اور خدا تعالیٰ احمد یوں کو بھی حکم دے دے کہ تم بھی تلوار کا مقابلہ تلوار سے کرو کیونکہ اب تم پر مظالم حد سے زیادہ ہو گئے ہیں۔لیکن بہر حال ہمارے سلسلہ کی ابتدائی ترقی تبلیغ سے ہی ہوتی ہے، ہوتی رہی ہے، ہورہی ہے اور آئندہ بھی ہوگی۔190