تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 191
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 16 اکتوبر 1942ء اس وقت تک ہم جس رنگ میں تبلیغ کرتے رہے ہیں، وہ انفرادی تبلیغ کا رنگ ہے۔یہ تبلیغ انفرادی تبلیغ کہلا سکتی ہے، اجتماعی تبلیغ نہیں کہلا سکتی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں اجتماعی تبلیغ کا رنگ تھا۔دشمن پر ایسے حملے ہوتے تھے کہ وہ مجبور ہو جاتا تھا کہ یا لڑے اور یا مان لے۔اشتہار پر اشتہار شائع ہوتے رہتے تھے اور دنیا کومخالفت کی دعوت دی جاتی تھی اور مجبور کیا جاتا تھا کہ لوگ مقابلہ کریں۔مجھے اچھی طرح یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ انبیاء کولوگوں نے جو مجنون کہا ہے تو اس کی بھی وجہ ہے۔وہ جس رنگ میں تبلیغ کرتے ہیں، اسے دیکھتے ہوئے لوگ ان کو مجنون کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ہم اشتہار پر اشتہار دیتے ہیں ، لوگ مخالفت کرتے ہیں۔جماعت کے لوگ مخالفت پر برا بھی مناتے ہیں، چڑتے بھی ہیں مگر ہم خود کب مخالفوں کو چپ رہنے دیتے ہیں اور اگر وہ چپ ہو جا ئیں تو ہم اور اشتہار دے دیتے ہیں۔انبیاء کی مثال تو اس بڑھیا کی سی ہے۔جسے بچے گالیاں دیتے اور دق کیا کرتے تھے کہ یہاں تک کہ وہ تنگ آکر ان کو بددعائیں دیتی کہ مجھے خواہ مخواہ دق کرتے ہیں۔ان بددعاؤں کی وجہ سے بعض دفعہ ماں باپ اپنے بچوں کو گھروں میں روک لیتے اور دروازوں کو قفل لگا دیتے کہ تم باہر جا کر صبح صبح بددعائیں لیتے ہو۔لیکن جب وہ بڑھیا دیکھتی کہ آج اسے کوئی بچہ دق نہیں کرتا تو وہ ہر دروازہ پر جاتی اور کہتی کہ کیا آج تمہارا مکان گر گیا؟ کیا سب بچے آج مر گئے ؟ اور یہ دیکھ کر ماں ہے باپ دروازے کھول دیتے اور بچوں سے کہتے کہ جاؤ جو مرضی ہے کرو۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ انبیاء کی بھی یہی مثال ہوتی ہے۔دشمن انہیں دق کرتا ہے اور مخالفت کرتا ہے لیکن اگر وہ کسی وقت مخالفت نہ کرے۔پھر بھی انہوں نے تو اپنی بات اسے ضرور سنانی ہے اور جب وہ سنائیں گے، وہ پھر مخالفت کرے گا۔ان کے دشمن صداقت پر صبر سے کام نہیں لے سکتے اور انبیاء تبلیغ سے باز نہیں رہ سکتے اور دونوں کی یہ حالت مل کر لڑائی کو جاری رکھتی ہے۔دشمن مخالفت کرتے ہیں، انبیاء ان کو اس پر ڈراتے بھی ہیں کہ تم پر ہماری مخالفت کی وجہ سے عذاب آئے گا۔لیکن اگر وہ کسی وقت چپ ہو جا ئیں تو یہ پھر اپنی تبلیغ شروع کر دیتے ہیں اور اس پر دوسرا فریق پھر گالی گلوچ شروع کر دیتا ہے۔کیونکہ گالی کے سوا اس کے پاس کچھ ہوتا نہیں۔یہ ضرور تبلیغ کرتے ہیں اور اس کے پاس اس کا ایک ہی جواب ہوتا ہے یعنی گالیاں۔چنانچہ وہ ضرور گالیاں دیتا ہے تو یه اجتماعی تبلیغ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں تھی۔مگر بعد میں اس میں سستی پیدا ہوگئی۔بے شک جماعت بڑھ رہی ہے، ترقی بھی کر رہی ہے ، رسائل بھی زیادہ ہیں، اخبار بھی اب زیادہ ہیں مگر وہ جو رنگ تھا کہ دشمن کو چھیڑنا اور مجبور کرنا کہ وہ سچائی کی طرف توجہ کرے، اب آگے سے کم ہے۔اب کچھ لوگ جماعت میں ایسے پیدا ہوگئے ہیں جو پیغامیوں کی طرح کہتے ہیں کہ ہمیں ایسی تقریر میں کرنی 191