تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 189 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 189

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد دوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 16 اکتوبر 1942ء ہماری جماعت کو اللہ تعالیٰ نے ترقی کے لئے جو ہتھیار بخشا ہے، وہ تبلیغ ہے وو خطبہ جمعہ فرمودہ 16 اکتوبر 1942ء ہماری جماعت کو اللہ تعالیٰ نے اسلام اور احمدیت کی ترقی کے لئے جو ہتھیار بخشا ہے، وہ تبلیغ ہے۔تلوار کا جہاد ہمارے لئے کم سے کم اس زمانے میں مقرر نہیں ہے۔کم سے کم اس زمانہ میں ہمارے لئے مقرر نہیں ہے، میں نے اس لئے کہا ہے کہ جہاد کے متعلق جو پیشگوئیاں اور احکام ہیں ، وہ وقتی ہیں۔جہادسیف بھی خدا تعالیٰ کے دائی احکام میں سے ایک حکم ہے اور خدا تعالیٰ کے دائمی احکام منسوخ نہیں ہوا کرتے ، ملتوی ہو سکتے ہیں۔اسی طرح جہاد کا حکم حالات کے مطابق ملتوی ہو سکتا ہے، منسوخ نہیں ہو سکتا۔جس قسم کے حالات میں سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام گزرے یا آپ کے قریب کے زمانہ کے لوگ گزررہے ہیں ، ضروری نہیں کہ یہ حالات ہمیشہ اسی طرح رہیں۔آج اگر تلوار کے ساتھ احمد یوں کو مجبور نہیں کیا جاتا کہ وہ اپنے دین کو چھوڑ دیں تو کون کہہ سکتا ہے کہ کل ایسے حالات پیدا نہ ہوں گے کہ کسی ملک میں اسے مٹانے کے لئے تلوار نہ اٹھائی جائے گی ؟ اور پھر وہاں احمدیت ہوگی بھی ایسے زور کی کہ وہ مخالفت علمی نہ کہلا سکے گی بلکہ حقیقی مخالفت کہلائے گی اور اس وقت مقابلہ تلوار کے ساتھ ہی ضروری ہوگا۔پس آج ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ کل احمدیت کے لئے کیا حالات ظاہر ہوں گے اور کیسی مشکلات اسے پیش آئیں گی ؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی یہی فرمایا ہے کہ عیسی مسیح کر دے گا جنگوں کا التواء آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ قیامت تک کے لئے جنگوں کو منسوخ کر دے گا۔التواء، ایک عرصہ تک ہوتا ہے اور احمدیت کو بھی ایسے حالات میں سے گزرنا پڑ سکتا ہے کہ دشمن اسے تلوار سے مٹانے کی کوشش کریں اور اس لئے احمدیوں کو بھی تلوار کا جواب تلوار سے دینا پڑے۔آج دشمن دلائل سے حملہ کرتا ہے، اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی دلائل سے مقابلہ کیا اور آپ کی جماعت بھی دلائل سے مقابلہ کر رہی ہے۔پس ہمارے لئے اشاعت اسلام کا ذریعہ تبلیغ کے سوا کوئی نہیں۔پہلے انبیاء کے زمانہ میں بھی ترقی کا ذریعہ تبلیغ ہی رہی ہے۔مگر ایسا بھی ہوتا رہا ہے، ان کے دشمن خود ہی دوسرے ذرائع بھی مہیا کر دیتے رہے۔اس کی کوئی ایک مثال بھی پیش نہیں کی جاسکتی کہ کبھی کسی نبی 189