تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 188 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 188

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 02 اکتوبر 1942 ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم ہوئی ہے، جسے دندانے اور نشان وغیرہ پڑ چکے ہیں اور جو پہلے استعمال ہو چکنے کی وجہ سے خراب ہو چکی ہے اور پرانی ہونے کی وجہ سے اس کے ہینڈل کو کیڑا لگا ہوا ہے۔یہا سے مارتا ہے تو بجائے دوسروں کو نقصان پہنچانے کے خود ہی ٹوٹ کر گر جاتی ہے۔دوسرے پر اثر تبلیغ اور دلیل سے ہی نہیں پڑتا بلکہ اس کے پیچھے جو جذ بہ ہوتا ہے، اس کا اثر ہوتا ہے۔" دیکھو قرآن کریم وہی تھا مگر مسلمان اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتے تھے۔اس لئے کہ ان کے دلوں میں حقیقی ایمان نہ تھا مگر وہی قرآن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ میں آکر کس طرح اسلام کے دشمنوں کو تہس نہس کر رہا ہے اور چاروں طرف مردے ہی مردے نظر آتے ہیں۔یہ اس لئے ہوا کہ حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ ذکر الہی کی طاقت تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے وفات مسیح کے جو دلائل پیش فرمائے ہیں، ان میں ہیں تھیں بلکہ اور سو کا اضافہ بھی بے شک کر لو لیکن اگر ذکر الہی نہیں تو ان تمام دلائل اور انہیں بیان کرنے والے مبلغوں کا کوئی اثر نہیں ہوسکتا۔اثر زبان نہیں بلکہ دل کا جذبہ کرتا ہے۔خالی زبانی باتوں سے کچھ نہیں بنتا۔اس میں شبہ نہیں کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے عقل دی ہے اور وہ معقول بات کو ہی قبول کرتا ہے۔لیکن صرف بات کا معقول ہونا ہی اثر نہیں کر سکتا ، جب تک کہ اس کے ساتھ محبت اور سنجیدگی نہ ہو۔بات معقول بھی ہو اور پھر اس کے ساتھ محبت اور سنجید گی بھی ہو، تب اثر ہوتا ہے۔اخلاص اور محبت کے بغیر کوئی اثر نہیں ہو سکتا۔اسی لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ہے کہ الدین النصح ، یعنی دین اور اخلاص ایک چیز ہے۔جب تک اخلاص نہیں، دین بھی نہیں اور جب اخلاص مٹے گا، دین بھی مٹ جائے گا“۔( مطبوعه الفضل 06 اکتوبر 1942ء) 188