تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 186
اقتباس از خطبہ جمعہ فرموده 25 ستمبر 1942 ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم اعتراض درست ہے۔حالانکہ ہماری جماعت کے مبلغین کی قربانیوں کو اگر دیکھا جائے تو ان کی مثال سوائے قرون اولیٰ کے اور کہیں دکھائی نہیں دے سکتی۔پیغامیوں کی تبلیغ تو اس کے مقابلہ میں ایسی ہے جیسے سورج کے مقابلہ میں ذرہ۔میں نے جو مثالیں پیش کی ہیں، ان کے مقابلہ میں پیغامی کوئی ایک ہی مثال پیش کر کے دکھا ئیں۔ان میں کہاں جرات ہے کہ وہ ہندوستان سے بغیر خرچ کے غیر ممالک میں تبلیغ کے لئے جائیں اور اپنا گزارہ تجارت وغیرہ کے ذریعہ کریں؟ اسی طرح ان میں کوئی ایسی مثال نہیں مل سکتی کہ کسی شخص کی نئی نئی شادی ہوئی ہو اور وہ اپنی بیوی کو چھوڑ کر اعلائے کلمہ اسلام کے لئے نکل گیا ہو اور پھر اسے واپس آنے کا اس وقت موقع ملا ہو جب اس کی بیوی ادھیڑ عمر کے قریب پہنچ چکی ہو۔اس قسم کی قربانیوں کا موقع اللہ تعالیٰ نے صرف ہماری جماعت کو ہی دیا ہے۔پس نہایت ہی بے شرم وہ لوگ ہیں، جو ہماری جماعت پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ ہم تبلیغ نہیں کرتے اور نہایت ہی بیوقوف وہ لوگ ہیں، جو اس اعتراض سے ڈر کر اپنے مبلغوں کی قربانیوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں، جن سے سلسلہ کی عزت ہے۔یہ وہ لوگ ہیں، جو حقیقی ایمان کا مظاہرہ کرنے والے ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں، جن کے متعلق جماعت کا فرض ہے کہ ان کی قدر کرے۔میں یہ نہیں کہتا کہ آپ لوگوں میں اور ایسے نہیں ہیں۔ممکن ہے آپ لوگوں میں سے بھی سینکڑوں ایسے ہوں ، جو اسی رنگ میں اپنے ایمان کا مظاہرہ کرنے کے لئے تیار ہوں اور وقت آنے پر وہ لوگ ثابت کر دیں کہ وہ بھی اپنے بھائیوں سے اخلاص اور قربانی میں کم نہیں۔مگر اپنے ایمان اور اخلاص کا نمونہ دکھانے کا ان کو موقعہ ملا ہے، آپ کو نہیں۔اس لئے دنیا کے سامنے آپ کی مثال پیش نہیں کی جاسکتی، انہی لوگوں کی پیش کی جاسکتی ہے۔پس ان ایام میں ان لوگوں کے لئے خصوصیت سے دعا ئیں کرنی چاہئیں۔اسی طرح احمدیت کی عظمت اور ترقی اور جماعت کے اندر سے ہر قسم کی منافقت کے دور ہونے کے متعلق دعائیں کرنی چاہئیں۔( مطبوعه الفضل مورخہ یکم اکتوبر 1942ء) 186