تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 185 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 185

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 25 ستمبر 1942ء صاحب۔یہ لوگ ایسے علاقوں میں ہیں جہاں سواریاں مشکل سے ملتی ہیں، کھانے پینے کی چیزیں بھی آسانی سے میسر نہیں آتیں، راستہ میں کبھی ستو پھانک کر گزارہ کر لیتے ہیں اور کبھی کوئی پھل کھا لیتے ہیں۔پھر انہیں سینکڑوں میل کے دورے کرنے پڑتے ہیں اور ان دوروں کا اکثر حصہ وہ پیدل طے کرتے ہیں۔یہ قربانیاں ہیں جو سالہا سال سے یہ لوگ کر رہے ہیں، چیف اور رؤسا ان کا مقابلہ کرتے ہیں۔بعض دفعہ گو ہمیشہ نہیں ) گورنمنٹ بھی ان کے راستے میں روڑے اٹکاتی ہے، عام پبلک اور مولوی بھی مقابلہ کرتے رہتے ہیں۔لیکن ان تمام روکوں کے باوجود وہ مختلف علاقوں میں جماعتیں قائم کرتے اور خانہ بدوشوں کی طرح دین کی اشاعت کے لئے پھرتے رہتے ہیں۔یہ لوگ ایسے نہیں کہ جماعت ان کی قربانیوں کے واقعات کو تسلیم کرنے سے انکار کر سکے۔میں قربانیوں کے واقعات کو تسلیم کرنے کی بجائے ان کے احسانات کو تسلیم کرنے“ کے الفاظ استعمال کرنے لگا تھا۔مگر پھر میں نے لفظ احسان اپنی زبان سے نہیں نکالا۔کیونکہ دین کیلئے قربانی کرنا ہر مومن کا فرض ہے۔اس لئے میں نے کہا ہے کہ جماعت ، ان لوگوں کی قربانیوں کو تسلیم کرنے سے انکار نہیں کرسکتی۔لیکن بہر حال اس میں کیا شبہ ہے کہ جو کام یہ لوگ کر رہے ہیں، وہ ساری جماعت کا ہے اور اس لحاظ سے جماعت کے ہر فرد کو اپنی دعاؤں میں ان مبلغین کو یا درکھنا چاہئے۔اسی طرح اور مبلغ دوسرے مختلف ممالک میں اخلاص اور قربانی سے کام کر رہے ہیں۔صوفی مطبع الرحمان صاحب امریکہ میں کام کر رہے ہیں اور بعض مشکلات میں ہیں۔مولوی مبارک احمد صاحب مشرقی افریقہ میں کام کر رہے ہیں۔مولوی رمضان علی صاحب ساؤتھ امریکہ میں کام کر رہے ہیں۔چوہدری محمد شریف صاحب فلسطین اور مصر میں کام کر رہے ہیں۔حکیم فضل الرحمن صاحب کا ذکر میں پہلے کر چکا ہوں ان کے علاوہ مولوی نذیر احمد صاحب مبشر سیالکوئی آج کل گولڈ کوسٹ میں کام کر رہے ہیں۔یہاں گو جماعتیں پہلے سے قائم ہیں مگر وہ اکیلے کئی ہزار کی جماعت کو سنبھالے ہوئے ہیں۔پھر ان کی قربانی اس لحاظ سے بھی خصوصیت رکھتی ہے کہ وہ آنریری طور پر کام کر رہے ہیں ، جماعت ان کی کوئی مدد نہیں کرتی۔وہ بھی سات آٹھ سال سے اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں سے جدا ہیں بلکہ تبلیغ پر جانے کی وجہ سے بیوی کا رخصتانہ بھی نہیں کرا سکے۔ہمارے دوست بعض دفعہ مختلف لوگوں کے اعتراضات سے ڈر کر اور بعض دفعہ پیغامیوں کے اس اعتراض سے گھبرا کر کہ جماعت احمد یہ قادیان تبلیغ نہیں کرتی، خیال کرنے لگ جاتے ہیں کہ شاید یہ 185