تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 164 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 164

خطبہ جمعہ فرمودہ 23 جنوری 1942ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم اسلام کو دنیا کے کونہ کونہ میں پھیلانے کیلئے ہمیں سینکڑوں مبلغوں کی ضرورت ہے اور پھر ان سینکڑوں زبانوں کو سیکھنے کی ضرورت ہے، جن کو سیکھنے کے بغیر ہم اپنے تبلیغی فرض کو ادا نہیں کر سکتے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض زبانیں ایسی ہیں جن کے جان لینے کی وجہ سے انسان تعلیم یافتہ گروہ تک اپنے خیالات دنیا بھر میں پہنچا سکتا ہے۔مثلاً عربی ہے، انگریزی ہے، جرمن ہے، سپینش ہے، پرتگیزی ہے، فرانسیسی ہے، یہ چند زبانیں ایسی ہیں جن کو سیکھ کر انسان قریباً قریباً ساری دنیا میں تبلیغ کر سکتا ہے۔لیکن یہ تبلیغ صرف تعلیم یافتہ طبقہ تک محمد ودر ہے گی۔عوام کا گروہ جو بہت بڑی اکثریت رکھتا ہے اس کے کانوں تک خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچانے کے لئے صرف ان زبانوں کا جاننا کافی نہیں بلکہ مقامی زبانوں کا جاننا بھی ضروری ہے۔مثلاً افغانستان میں چلے جاؤ۔وہاں بھی تمہیں ایک ایسا تعلیم یافتہ گروہ مل جائے گا جو عربی اور فارسی جانتا ہوگا۔خصوصاً کابل اور اس کے اردگرد جو علاقہ ہے وہاں کے رہنے والے لوگ فارسی ہی میں کلام کرتے ہیں اور انہیں فارسی زبان میں آسانی کے ساتھ تبلیغ کی جاسکتی ہے لیکن خوست کے علاقہ میں سوائے پشتو زبان جاننے والے کے اور کوئی تبلیغ نہیں کر سکتا۔اسی طرح افغانستان کے بعض اور علاقے ایسے ہیں جہاں صرف پشتو زبان بولی اور سمجھی جاتی ہے۔پھر ہندوستان اور کابل کے درمیان بعض ایسے قبائل ہیں، جن میں تبلیغ کرنے کے لئے صرف پشتو جاننا کافی نہیں بلکہ مقامی زبانیں جاننا بھی ضروری ہے۔یہ قبائل چالیس چالیس، پچاس پچاس ہزار کی تعداد میں ہیں اور صرف اپنی زبان میں ہی بات کو سمجھ سکتے ہیں کسی اور زبان میں ان سے بات کی جائے تو وہ نہیں سمجھ سکتے۔اسی طرح ہندوستان کے شمالی پہاڑوں پر چلے جاؤ تو تمہیں ان پہاڑی لوگوں میں نہ کوئی عربی جاننے والا ملے گا، نہ کوئی فارسی جانے والا ملے گا، نہ کوئی جرمن زبان جاننے والا ملے گا، نہ کوئی فرانسیسی زبان جانے والا ملے گا، نہ کوئی اردو جاننے والا ملے گا، نہ کوئی پنجابی جاننے والا ملے گا اور نہ کوئی ہندی جاننے والا ملے گا۔یہ لوگ کسی جگہ دس ہزار کی تعداد میں رہتے ہیں، کسی جگہ میں ہزار کی تعداد میں رہتے ہیں، کسی جگہ میں ہزار کی تعداد میں رہتے ہیں، کسی جگہ چالیس ہزار کی تعداد میں رہتے ہیں اور کسی جگہ پچاس ہزار کی تعداد میں رہتے ہیں اور ان سب کی اپنی اپنی مقامی زبا نہیں ہیں و دنیا بھر میں بلیغ اسلام پہنچانے کے لئے ہمیں سینکڑوں زبانیں جاننے والوں کی ضرورت ہے۔آخر جس طرح انگریزی جاننے والے اس بات کے مستحق ہیں کہ خدا تعالیٰ کا پیغام ان کو پہنچایا جائے ، جس طرح جر من اس بات کے مستحق ہیں کہ خدا تعالیٰ کا پیغام ان کو پہنچایا جائے ، جس طرح فرانسیسی اس بات کے مستحق ہیں کہ خدا تعالی کا پیغام ان کو پہنچایا جائے ، جس طرح عربی جاننے والے اس بات کے 164