تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 165
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم خطبہ جمعہ فرمودہ 23 جنوری 1942ء مستحق ہیں کہ خدا تعالیٰ کا پیغام ان کو پہنچایا جائے ، جس طرح فارسی جاننے والے اس بات کے مستحق ہیں کہ خدا تعالیٰ کا پیغام ان کو پہنچایا جائے ، اسی طرح جو لوگ اپنی اپنی لوکل اور مقامی زبانیں بولتے ہیں ، وہ بھی اس بات کے مستحق ہیں کہ خدا تعالیٰ کا پیغام ان کو پہنچایا جائے اور یہ کوئی معمولی کام نہیں۔جب تک ہم بیسیوں سے شروع کر کے سینکڑوں اور ہزاروں تک اپنے مبلغین کی تعداد کو نہ پہنچا دیں اور جب تک ہر ملک، ہر علاقہ اور ہر حصہ کی زبانیں جاننے والے لوگ ہم میں موجود نہ ہوں۔اس وقت تک اس کام کو ہم صحیح طور پر سرانجام نہیں دے سکتے۔پس یہ کوئی معمولی کام نہیں اور نہ ہی یہ کام اس چندہ سے پورے طور پر ہو سکتا ہے، جو تحریک جدید کے ذریعہ جمع کیا جارہا ہے۔ہاں اس روپیہ کو بیج کے طور پر استعمال کر کے اگر ہم اس کام کو بڑھانا شروع کر دیں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسا وقت آ سکتا ہے، جب ہر زبان جاننے والے مبلغ ہمارے پاس موجود ہوں اور ہر علاقہ میں تبلیغ کرنے کے لئے ہم اپنے افراد کو بھیج سکتے ہوں۔خواہ وہ علاقہ ایسا ہو جس میں صرف دس ہزار افراد ایک زبان کے جاننے والے ہوں اور خواہ اس سے بھی چھوٹا علاقہ ہو۔بہر حال یہ معمولی کام نہیں بلکہ اس کے لئے بیسیوں سال کی محنت درکار ہے اور اس کے لئے متواتر بیداری اور مسلسل ہوشیاری اور قربانی کے ساتھ جماعت کو مبلغ تیار کرنے کی ضرورت ہے۔تب ایک لمبے عرصہ کے بعد ہماری جماعت یہ دعوی کر سکے گی کہ دنیا کی کوئی زبان ایسی نہیں، جس میں ہم نے خدا اور اس کے رسول کا پیغام نہ پہنچا دیا ہو اور یہی غرض ہے، جس کے لئے تحریک جدید کا یہ فنڈ قائم کیا گیا ہے۔ا میں نے اس سال خصوصیت کے ساتھ جماعت کے دوستوں کو توجہ دلائی تھی کہ وہ اس سال پہلے سالوں سے نمایاں اضافہ کے ساتھ وعدے کریں اور قربانی کے میدان میں گزشتہ سالوں سے آگے قدم رکھیں۔چنانچہ اس سال کی تحریک کے ابتداء میں جماعت نے جس جوش کے ساتھ اس میں حصہ لیا تھا، اس کو دیکھتے ہوئے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ اس سال کی تحریک کا چندہ خدا تعالیٰ کے فضل سے گزشتہ سال سے بہت بڑھ جائے گا۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ جلسہ سالانہ کے بعد جماعتوں میں سستی پیدا ہوگئی ہے ، جو نہایت ہی افسوسناک امر ہے۔ممکن ہے یہ میری ہی غلطی ہو اور جماعتیں چندوں کی فہرستیں تیار کر رہی ہوں اور ان کا یہ خیال ہو کہ آخری تاریخ تک ہم اپنی لسٹیں بھیجوا دیں گی لیکن بہر حال اس وقت تک وعدوں کے جو اندازے یہاں پہنچ چکے ہیں، وہ نہ صرف زیادہ نہیں بلکہ پچھلے سال کے وعدوں سے کم ہیں۔دسمبر کے شروع حصہ میں اس سال کے وعدوں کی رقم پچھلے سال سے دس بارہ ہزار روپیہ زیادہ تھی لیکن اب آکر گزشتہ سال کے مقابلہ 165