تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 133 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 133

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 05 دسمبر 1941ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم مگر اس کے مکمل ہو جانے کی دعا کرتا رہے تو اس کا مطلب بھی کام کرنے کا ہی ہے اور اس کے نتیجہ میں بھی خدا تعالیٰ اس انسان کے کام کرنے لگ جاتا ہے۔غرض جو بندہ خدا تعالیٰ کے کاموں کو اپنا لیتا ہے، وہ گویا خدا تعالیٰ کا ولی بن جاتا ہے اور اس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ اس کے کاموں کو اپنا لیتا اور اس کا ولی بن جاتا ہے۔خدا تعالیٰ کی ولایت کے یہ معنی نہیں، جس طرح دو شخص باہم فیصلہ کرتے ہیں کہ آؤ ایک دوسرے کے دوست بن جائیں اور پھر دعوت کرتے ہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی ولایت اسی طرح ہوتی ہے کہ بعض بندے خدا تعالیٰ کے کاموں میں لگ جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ ان کے کاموں کا کفیل ہو جاتا ہے، اسی کا نام ولایت ہے۔پس دوستوں کو اس موقع پر بھی دعائیں کرنی چاہیں اور ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ جب کوئی نئی تحریک ہو تو خواہ کوئی کہے یا نہ کہے، وہ خدا تعالیٰ سے دعائیں کرنے میں لگ جائیں کہ اللہ تعالیٰ اسے زیادہ سے زیادہ کامیاب کرے۔پھر وہ دیکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ کس طرح ان کے مصائب اور مشکلات دور کرتا ہے۔یہ نہیں کہ پھر ان پر کوئی مشکل یا مصیبت آئے گی نہیں، مصائب اور مشکلات دنیا میں آتی تو ضرور ہیں۔اللہ تعالیٰ کے انبیاء پر بھی مشکلات آتی ہیں۔حتی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر بھی مصائب اور مشکلات آئیں تو پھر یہ کسی طرح ہو سکتا ہے کہ تم پر نہ آئیں؟ مگر یہ مصائب اور مشکلات کوئی چیز نہیں ہیں۔اصل مصیبت وہ ہوتی ہے جو انسان کو تباہ کردے اور ایسی مشکلات تم پر بھی نہ آئیں گی۔ایک دفعہ مجھے حضرت مسیح موعود کا ایک نوٹ ملا، جو شاید میں تشہیذ الاذہان میں شائع بھی کروا چکا ہوں۔اس میں آپ نے لکھا ہے کہ خواہ ساری دنیا میری مخالف ہو، مجھے اس کی کیا پرواہ ہوسکتی ہے، جبکہ اللہ تعالی کا مجھ پر اتنا فضل ہے کہ جب دنیا سو جاتی ہے، وہ آسمان سے اتر کر مجھے تسلی دیتا ہے کہ میں تیرے ساتھ ہوں اور جس شخص کو خدا تعالی یہ تسلی دے کہ میں تیرے ساتھ ہوں ، اس کے دل میں غم کہاں آ سکتا ہے؟ دنیا کا سب سے زیادہ مظلوم وجودمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا تھا مگر سب سے زیادہ خوش وجود بھی آپ ہی کا تھا۔سب سے زیادہ مشکلات میں گھرا ہوا وجود آپ کا تھا، مگر قیامت تک آپ سے زیادہ خوش وجود بھی اور کوئی نہیں ہو سکتا۔پس میں یہ نہیں کہتا کہ آپ لوگوں پر مشکلات نہ آئیں گی۔بعض نادان ایسے ہوتے ہیں کہ دو تین روز نمازیں پڑھیں یا چند روز دعائیں کیں تو کہنے لگ جاتے ہیں کہ جی بڑی نمازیں پڑھیں، بڑی دعائیں کیں، مگر کچھ نہیں بنتا، پھر بھی مشکلات دور نہیں ہوئیں۔حالانکہ مشکلات تو انبیاء پر بھی آتی ہیں اور مومنوں پر بھی ضرور آتی ہیں۔پس میں یہ نہیں کہتا کہ آپ پر مشکلات یا مصائب نہ آئیں گی بلکہ میرا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو تباہ نہیں کرے گا۔133