تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 134 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 134

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 05 دسمبر 1941ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک واقعہ ہے، جو گورداسپور میں ہوا۔میں تو اس مجلس میں نہ تھا، گو اس وقت گورداسپور میں موجود تھا۔مجھ سے ایک اس مجلس میں موجود راوی نے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود چار پائی پر لیٹے ہوئے تھے اور دوست پاس دری پر بیٹھے تھے۔خواجہ کمال الدین صاحب اور دوسرے دوست جو مقدمہ کی پیروی کر رہے تھے، بہت گھبرائے ہوئے آئے اور کہا کہ حضور بہت خطر ناک خبر سنی ہے۔ہم لاہور گئے ہوئے تھے ، وہاں سے معلوم ہوا کہ وہاں آریوں کی خاص مجلس منعقد ہوئی اور مجسٹریٹ، جس کے پاس مقدمہ ہے، یہ بھی اس میں شامل تھا۔آریوں نے اس پر بہت زور دیا ہے کہ مرزا صاحب ہمارے مذہب کے سخت مخالف ہیں ، انہیں ضرور سزا دے دو۔خواہ ایک دن کیلئے ہی کیوں نہ ہو، انہیں جیل میں ضرور بھیج دو؟ یہ تمہاری ایک قومی خدمت ہوگی۔اور وہ وہاں یہ وعدہ بھی کر آیا ہے کہ میں ضرور ایسا کروں گا۔مجھ سے راوی نے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود پہلے لیٹے ہوئے تھے، پھر کہنی پر ٹیک لگا کر پہلو کے بل ہو گئے۔آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور آپ نے فرمایا۔خواجہ صاحب آپ کیا کہتے ہیں؟ خدا تعالیٰ کے شیر پر بھی کوئی ہاتھ ڈال سکتا ہے؟ تو مومن کو مشکلات تو آتی ہیں مگر یہ مشکلات ایسی تو نہیں ہوتیں کہ اسے تباہ کر دیں۔بری مشکل وہ ہوتی ہے، جو انسان کو تباہ کر دے ورنہ دنیا میں مشکلات آتی ہی ہیں۔زمیندار کو دیکھو اسخت سردی میں ہل چلاتا ہے، کھیتوں کو پانی لگاتا ہے مگر وہ اسے مشکل نہیں سمجھتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کے بدلہ میں اسے فائدہ ہوگا۔مشکل انسان اسے سمجھتا ہے، جس کے بدلہ میں وہ سمجھے کہ اس پر تباہی آجائے گی۔عورت کو دیکھو! اپنے بچہ کو کس طرح پالتی ہے؟ کتنی مصیبتیں اس کے لئے جھیلتی ہے؟ مگر ایک بچہ ابھی اس کی گود سے اتر تا نہیں کہ دعائیں کرنے لگ جاتی ہے کہ خدا پھر میری گود ہری کرے اور اس کی اس دعا کے یہی معنے ہوتے ہیں کہ خدایا! میں پھر پیشاب سے بھیگوں، پھر میرا خون چوسنے والا کوئی پیدا ہو۔اسی طرح ایک باپ اگر ایسی دعا کرے تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ ایک اور روٹی کھانے والا پیدا ہو جائے ، ایک اور کمرہ سنبھالنے والا پیدا ہو، ایک اور تعلیم پر خرچ کرانے والا ہو ، ایک اور رورو کر اس کے آرام میں خلل ڈالنے والا ہو تو ماں باپ کیلئے اولاد کا ہونا بظاہر تکلیف کا موجب ہوتا ہے مگر کیا ان مشکلات کو کوئی مشکل کہتا ہے؟ اگر کوئی اسے مشکل کہے تو ہر شخص کہے گا کہ اس بیچارے کا دماغ خراب ہو گیا ہے۔تو ان باتوں کا نام مشکل مشکل اسے کہتے ہیں، جس کے نتیجہ میں انسان کو تباہی کا ڈر ہو۔جس کے بدلہ میں انعام ملنے والا ہو، اسے کوئی مشکل نہیں کہتا اور اسے مشکل کہنے والے کو کوئی باہوش انسان نہیں سمجھتا۔134