تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 132 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 132

اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 05 دسمبر 1941ء تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔جلد دوم یہ دینی کام ہے اور ہمارے تمام کام در اصل دعاؤں سے ہی تعلق رکھتے ہیں۔مگر دوست واقف نہ ہونے کی وجہ سے بہت بڑے ثواب سے محروم رہ جاتے ہیں۔انہیں یا درکھنا چاہئے کہ جب بھی کوئی دینی تحریک ہو، انہیں فوراً دعائیں کرنے میں لگ جانا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ اسے زیادہ سے زیادہ کامیاب بنائے۔انفرادی طور پر بھی اور اجتمائی طور پر بھی اس کے دو فائدے ہوتے ہیں۔ایک تو یہ کہ دعا ئیں اللہ تعالی کے فضل کو کھینچتی ہیں اور جماعت کے کمزور اور طاقتور دونوں کو قربانی کا موقع مل جاتا ہے اور انفرادی طور پر یہ فائدہ ہوتا ہے کہ ایسے دوستوں پر بھی اللہ تعالیٰ کا فضل نازل ہوتا ہے، جو دینی تحریکات کی کامیابی کیلئے اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتے ہیں۔جب تم خدا تعالیٰ کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہو ، اس لئے کہ وہ کسی دینی کام کو پورا کرے ( دینی کام در اصل خدا تعالیٰ کا اپنا کام ہے۔تو تم گویا اس سے دعا کرتے ہو کہ وہ اپنا کام کرے اور جب تم خدا تعالیٰ کیلئے کام کرتے ہو تو اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ میرا بندہ میرا کام کر رہا ہے، لاؤ میں بھی اس کا کام کروں۔اللہ تعالیٰ کے بہترین فضلوں کو جذب کرنے والی دعاؤں میں سے ایک یہ بات بھی ہے کہ جب بھی کوئی دینی تحریک ہو ، مومن دعاؤں میں لگ جائے کہ اللہ تعالیٰ اسے کامیاب کرے۔اور اگر کوئی مومن کسی دینی تحریک کی کامیابی کیلئے دعا کرتا ہے اور رقت وزاری کے ساتھ کرتا ہے اور اس کے نتیجہ میں کسی کو اس میں حصہ لینے کی توفیق مل جاتی ہے تو خواہ وہ دنیا کے کسی کنارے پر رہنے والا ہو، اس کا ثواب اسے بھی ملے گا۔جب کوئی مومن کسی دینی تحریک کی کامیابی کیلئے بڑی دعا کرتا ہے تو اللہ تعالی فرماتا ہے کہ اس بندے نے بڑی دعا کی ہے، اس کے نتیجہ میں اسے کچھ ضرور دینا ہے اور وہ کسی دور مقام پر رہنے والے کسی شخص کے دل میں یہ جوش پیدا کر دیتا ہے کہ وہ اس میں زیادہ حصہ لے اور اس کا ثواب اس کے نام بھی لکھا جاتا ہے کیونکہ اس کی روحانی تحریک سے اسے خدمت دین کا موقع ملا۔مگر اس کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ کہے گا کہ ہمارے بندے نے ہمارے کام کی خاطر دعا کی ہے اور ہمارے پاس آیا ہے کہ ہم اپنا کام کریں، اس نے ہمارے کام کی فکر کی ہے، ہم اس کے کاموں کی فکر کیوں نہ کریں ؟ تو اس دعا کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ خود اس کے کاموں کا بھی متکفل ہو جائے گا اور اس کے کام خود کرنے لگے گا۔اگر کوئی سچے دل سے یہ گر آزمائے تو اسے ولایت کا مقام حاصل ہو جائے گا۔ولایت اسی کا نام ہے۔اولیاء اور صلحاء کے کاموں کے خدا تعالیٰ کے متکفل ہو جانے کی کیا وجہ ہے؟ یہی کہ وہ خدا تعالیٰ کے کاموں میں لگ جاتے ہیں، اس لئے خدا تعالیٰ ان کے کاموں کا متکفل ہو جاتا ہے اور اسی کا نام ولایت ہے۔وہ خدا تعالیٰ کے کام کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ ان کے کرتا ہے۔اور جو انسان خدا تعالیٰ کا کام تو نہ کر سکے 132