تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 131 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 131

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 05 دسمبر 1941ء جب بھی کوئی دینی تحریک ہو فورا دعاؤں میں لگ جائیں خطبہ جمعہ فرمودہ 05 دسمبر 1941ء پہلے تو میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے ہماری جماعت کو اس بات کی توفیق عطا فرمائی کہ دوست تحریک جدید کے سلسلہ میں چندے ادا کرنے والے یا اس کے لئے وعدہ کرنے والے بنیں۔خدا تعالیٰ کے فضل سے اب تک 25 ہزار روپیہ تک کے وعدے آچکے ہیں۔(خطبہ کی صحت کے وقت تک اثر میں ہزار روپے کے وعدے آچکے ہیں۔ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں ، جنہوں نے خطبہ کو سن کر اپنے چندوں میں زیادتیاں کی ہیں اور ایسے بھی سعید ہیں ، جن کو خطبہ ابھی تک نہیں پہنچا مگر باوجود اس کے انہوں نے اپنے پہلے چندہ سے کافی زیادتی کی ہے اور بہت سے ایسے ہیں، جنہوں نے خطبہ پڑھنے سے پہلے ہی اپنے چندے لکھوا دیئے ہیں اور خطبہ کے مضمون سے ناواقف ہونے کی وجہ سے اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکے اور حسب دستور سابق تھوڑی سی زیادتی کے ساتھ وعدے لکھوا دیئے ہیں۔حالانکہ اگر وہ قربانی کی کوشش کرتے تو اور بھی کر سکتے تھے۔پھر ایسے بھی ہیں، جو پہلے کوتا ہی کر رہے تھے اور اپنی حیثیت سے کم چندے لکھوا رہے تھے اور انہوں نے میرا خطبہ پڑھنے کا انتظار نہ کیا اور اس سال بھی حسب سابق ہی چندہ لکھوا دیا، جو ان کے لئے قربانی نہیں کہلا سکتی۔مجھے امید ہے کہ خطبہ کی اشاعت کے بعد دوست اس کے مضمون کو اچھی طرح ذہن میں رکھ لیں گے۔قادیان کے دوستوں کو یہ فضلیت حاصل ہے کہ وہ ہر تحریک کو پہلے سن لیتے ہیں اور باہر والے جب خطبہ اخبار میں چھپ کر جاتا ہے تو اسے پڑھتے ہیں۔خطبہ کل شائع ہو جائے گا کیونکہ میں نے گذشتہ خطبہ کل ہی دیکھ کر دیا ہے۔چاہئے تو یہ تھا کہ پہلے شائع ہو جا تا مگر مجھے بعض ضروری کام تھے۔الفضل والوں نے یاد دہانی نہ کرائی اور پرسوں میں نے اتفاقاً ایک جگہ پڑا دیکھا تو خیال آیا کہ اسے دیکھ دوں۔ایسے خطبات کے متعلق جلدی جلدی یاد دہانی کرائی جانی چاہئے تا وہ جلد از جلد چھپ سکیں۔بہر حال تحریک شائع ہو چکی ہے اور جماعت کا ایک حصہ وعدے لکھوا بھی چکا ہے۔ان میں سے کثیر حصہ تو ایسا ہے، جو قربانی کرنے والا ہے اور ایک قلیل حصہ ایسا ہے، جس کے چندے یا وعدے قربانی نہیں کہلا سکتے۔میں ان کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ وہ صحیح معنوں میں قربانی کرنے کی کوشش کریں۔131