تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 121
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 28 نومبر 1941ء یہی آسکتا ہے کہ اب اکثر حصہ گزر چکا ہے اور منزل قریب آگئی ہے۔آج اس منزل میں تین سال کا عرصہ باقی رہتا ہے۔پھر جن کو خدا تعالیٰ نے توفیق عطا فرمائی اور زندگی دی، انہیں ایک سال گزرنے کے بعد دو سال باقی نظر آئیں گے اور جنہوں نے دو سال گزار لئے ، انہیں صرف ایک سال جو آخری سال ہوگا ، دکھائی دے گا اور پھر اس ایک سال کے بعد وہ دن آئے گا جب تمام سال گزر چکے ہوں گے۔تب ان کا دل خوشیوں سے معمور ہو گا اور وہ اس بات پر خدا تعالیٰ کا شکر بجالائیں گے کہ اس نے اپنے فضل سے انہیں اس لمبی قربانی میں شمولیت کی توفیق عطا فرمائی مگر وہ لوگ ، جنہوں نے دس سال پہلے اس تحریک میں شمولیت کے لئے قدم نہیں اٹھایا ہو گا، ان کے دل حسرت و اندوہ سے بھر جائیں گے۔اس تحریک کے پہلے تین سالوں میں جماعت نے بہت بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔اس کے بعد جب اسے دس سال میں پھیلا دیا گیا تو میں نے اس قدر زور نہ دیا اور نہ جماعت نے اس تیز گامی کو قائم رکھا، جو پہلے سالوں میں تھی۔میں نے یہ سمجھا کر کہ ہر تحریک میں قبض و بسط کا زمانہ ہوتا ہے۔ان درمیانی چار سالوں کو قبض کا زمانہ ہی سمجھ لو۔چنانچہ میں نے ایسے قانون بنا دیئے جن کے نتیجہ میں ہر سال چندہ میں معمولی زیادتی کر کے بھی انسان سابقون میں شامل ہو سکتا ہے۔مثلاً میں نے کہا کہ اگر کسی نے پہلے سال روپے دیئے ہوں تو دوسرے سال وہ پانچ روپے ایک پیسہ، تیسرے سال پانچ روپے تین پیسے دے سکتا ہے اور میں نے چندہ میں خاص طور پر زیادتی کرنے کا متعلق زور نہ دیا لیکن اب جب کہ 2/3 حصہ سے زیادہ گزر چکا ہے، میں آٹھویں سال کی تحریک کا اعلان کرنے کے ساتھ پھر جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ اب تین سالوں میں پھر سابقون کی سی تیز گامی اختیار کریں۔اب منزل قریب آرہی ہے اور قربانی کے ان با برکت ایام کا دوبارہ میسر آنا ان کے لئے بہت مشکل ہوگا کیونکہ اس قسم کی تحریک بہت کم ہوتی ہے اور بہت ہی نازک دوروں میں ہو سکتی ہے۔شاید اللہ تعالیٰ اس عرصہ میں جنگ کا خاتمہ کر دے اور اسی عرصہ میں ایسے حالات پیدا کر دے جو اسلام اور احمدیت کے لئے مفید ہوں اور پھر ہمیں اس قسم کے چندوں کی ضرورت نہ رہے۔اس وقت خواہ کوئی شخص کتنی بڑی مالی قربانی کرے گا اور خواہ دس لاکھ سلسلہ کے سامنے لا کر رکھ دے گا۔اس روپے کا وہ ثواب اسے نہیں ملے گا، جو آج چند روپے دینے والوں کومل سکتا ہے۔پس میں ان آخری تین سالوں کی تحریک میں سے پہلے سال کی تحریک کرتے ہوئے، پھر دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ بیدار ہو جائیں اور سمجھ لیں کہ ان کی منزل قریب آگئی ہے۔اب کسی لمبی قربانی کا سوال نہیں بلکہ صرف تین سال قربانی کرنے کا مطالبہ ہے۔اس لئے وہ صرف اتنی کوششیں نہ 121