تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 120
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 28 نومبر 1941ء تحریک جدید - ایک انہی تحریک جلد دوم ہیں۔گویا دو تہائی سے زیادہ عرصہ گزر گیا ہے اور اب ایک تہائی سے بھی کم وقت باقی رہ گیا ہے۔پس اب اس حصہ عمل کی منزل خدا تعالیٰ کے فضل سے قریب آگئی ہے۔گو مومن کا عمل دنیا میں کبھی ختم نہیں ہوتا۔وہ لوگ جو اپنے آگے نکل جانے والے بھائیوں سے سات سال پیچھے رہ گئے ہیں۔اگر ان کے دلوں میں ایمان پایا جاتا ہے تو آج وہ کس حسرت سے یہ دیکھ رہے ہوں گے کہ قافلہ سات سال آگے نکل گیا اور ہم پیچھے رہ گئے۔آج انہیں خیال آتا ہو گا کہ ان سات سالہ قربانیوں کے نتیجہ میں یہ لوگ مرے تو نہیں، یہ لوگ تباہ اور بر باد تو نہیں ہوئے ، دنیوی لحاظ سے بھی ان کے گزارہ میں کوئی خاص مشکلات تو پید انہیں ہوئیں۔پس آج ان کے دلوں میں کس قدر حسرت پیدا ہو رہی ہوگی کہ ہم قافلہ میں شامل نہیں ہوئے اور وہ سات سال آگے نکل گیا۔مگر وہ لوگ جو اس تحریک میں شامل ہوئے ، آج خوش ہیں کیونکہ ان کی منزل ان کے قریب تر ہو گئی ہے۔لیکن ان لوگوں کی اس حسرت کا علاج میرے پاس کوئی نہیں۔ہاں ! ان لوگوں پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، جو ابتدا سے اس تحریک میں شامل رہے ہیں کیونکہ اگر وہ اپنی غفلت اور کوتاہی سے سرے پر پہنچ کر گرے جائیں گے تو یہ بہت بڑے افسوس کا مقام ہوگا۔کسی شاعر نے کہا ہے:۔قسمت میری دیکھیے ٹوٹی کہاں کمند دو چار ہاتھ جبکہ لب بام رہ گیا پس بے شک ان لوگوں کو بھی بڑی حسرت ہوگی جو اس سفر میں شریک نہیں ہوئے اور پیچھے رہ گئے ہیں۔وہ آج اپنے ارد گرد نظر ڈالتے ہوں گے تو خیال کرتے ہوں گے کہ اس تحریک میں شامل ہونا کون سی بڑی بات تھی ؟ مگر اس سے بھی زیادہ حسرت اس شخص کو ہوتی ہے جو لب بام پہنچ کر گر جائے۔وہ تو یہ خیال کر رہا ہو کہ اب میں صرف ہاتھ اوپر کروں گا تو چھت پر پہنچ جاؤں گا مگر عین اس وقت رسی ٹوٹے اور وہ نیچے گر جائے اور پھر نا کامی کا منہ دیکھنے لگ جائے۔اس پیاسے کو بھی بڑی تکلیف ہوتی ہے جسے پانی نہ ملے مگر اس شخص کو تو بہت ہی تکلیف ہوتی ہے جو پانی پینے کے لئے آبخورا اپنے منہ سے لگالے اور اچانک کوئی دوسرا اس سے آبخورا چھین کر لے جائے۔پس وہ لوگ جنہوں نے اس میدان میں اپنا قدم آگے بڑھایا ہوا ہے اور جو گذشتہ سات سال سے قربانی کرتے چلے آرہے ہیں، میں ان کو بتاتا ہوں کہ ان کے لئے یہ بہت نازک ایام ہیں۔اب ایک لمبے عرصے کا بھیانک خیال کہ ہمیں دس سال مسلسل قربانی کرنی پڑے گی ، ان کے دلوں سے جاتا رہا ہے اور اب وہ زمانہ آ گیا ہے جس کے متعلق ان کے ذہن میں 120