تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 122 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 122

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 28 نومبر 1941ء تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔۔جلد دوم کریں، جو انہیں قربانی کے کم سے کم معیار پر رکھیں بلکہ تین سال کا عرصہ چونکہ نہایت محدود عرصہ ہے اور جلدی ختم ہو جانے والا ہے۔اس لئے ان کو چاہئے کہ وہ زیادہ زور اور زیادہ ہمت سے کام لیں اور اس سال پھر وہ اپنی قربانی کی رفتار کو بڑھاویں۔جیسے دن ڈوبتے وقت گھر کا کام کرنے والا مزدور زیادہ محنت سے کام کرتا ہے۔اجرت پر کام کرنے والا مزدور تو سارا دن ہی سستی سے کرتا ہے۔مگر جن کے اپنے گھر کا کام ہو، وہ جب دیکھتے ہیں کہ سورج غروب ہونے والا ہے تو زیادہ تن دہی اور زیادہ محنت سے کام کرنے لگ جاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اب تو دن ڈوبنے والا ہے۔اب ہمیں زیادہ محنت سے کام کر کے اسے جلدی ختم کر دینا چاہئے۔اس طرح اب تحریک کا دن بھی ڈوبنے والا ہے یعنی وہ کام ختم ہونے والا ہے، جس میں شمولیت کی جماعت کے دوستوں کو تحریک کی جا رہی تھی۔ورنہ یوں قربانیاں کبھی ختم نہیں ہوسکتیں، وہ جاری رہیں گی اور کسی نہ کسی صورت میں جماعت سے ان قربانیوں کا مطالبہ ہمیشہ ہو تا رہے گا۔اس وقت سوال ایک معین قربانی کا ہے اور یہ قربانی تین سال کے بعد ختم ہو جائے گی۔پس جس طرح دن ڈوبتے وقت مزدور زیادہ محنت سے کام کرنے لگ جاتا ہے، اسی طرح چونکہ تحریک کے مالی قربانی کے حصہ کا دن اب ڈوبنے والا ہے۔اس لئے پہلے سے بھی زیادہ زور سے کام کرو تا کہ شام سے پہلے کام ختم ہو جائے۔دنیا میں جب یہ انسان سمجھتا ہے کہ وہ اب اپنی زندگی کے آخری لمحات میں سے گذر رہا ہے تو وہ خدا تعالیٰ کو خوش کرنے کی زیادہ کوشش کیا کرتا ہے۔اسی طرح ان تین سالوں میں خدا تعالیٰ کو جس قدر خوش کرنا چاہتے ہو، خوش کر لو کہ نا معلوم پھر ایسا موقع میسر آئے یا نہ آئے۔میں نے جماعت کے دوستوں کو بار ہا بتایا ہے کہ اس سرمایہ سے ایک بہت بڑی جائیداد پیدا کی جارہی ہے، جس کی آمد تحریک جدید کے اغراض اور اشاعت دین پر صرف کی جارہی ہے۔پس ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ تحریک جدید کی میعاد ختم ہوتے ہی یہ جائیداد کی طور پر آزاد ہو جائے۔اس جائیداد کو ہم نے اقساط پر خریدا ہوا ہے اور تمام اقساط کی ادائیگی اسی صورت میں ہوسکتی ہے ، جب پھر ہماری جماعت کے تمام دوست کمر ہمت کس کر کھڑے ہو جائیں اور ان تین سالوں میں زیادہ سے زیادہ مالی قربانی کا نمونہ پیش کریں۔وعدوں کے لحاظ سے بھی اور پھر ان کو بروقت پورا کرنے کے لحاظ سے بھی۔میں نے اس تحریک میں جیسا کہ میں نے بتایا ہے، بعض قواعد مقرر کئے تھے اور میں نے کہا تھا کہ جو چندہ کوئی شخص پہلے سال دے، اس پر ہر سال اگر معمولی زیادتی بھی کرتا چلا جائے تو وہ سابقون میں شامل ہو جائے گا۔میں سمجھتا ہوں میری اس تحریک پر قریباً ہر احمدی نے اپنے چندے کو اس رنگ میں بدل دیا ہے کہ وہ اپنے چندہ 122