تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 107 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 107

تحریک جدید- ایک الی تحریک۔۔۔جلد دوم خطبہ جمعہ فرمودہ 25 جولائی 1941ء ہوتے بلکہ جگہ بدلنے کے بھی ہوتے ہیں۔اور جب کوئی کسی نئی جگہ جاتا ہے تو گویا اس کی نئی ولادت ہوتی۔مثلاً جب کوئی طالب علم چھٹیوں پر یہاں سے لاہور پہنچے گا تو ان چند ہفتوں کیلئے لاہور میں وہ گویا نیا جنم لے گا اور جب وہاں سے واپس آئے گا تو گویا وہاں سے انتقال کرے گا اور دنیا کی ولادت بھی ایسی ہی ہوتی ہے۔جب اللہ تعالیٰ دنیا میں ایک روح کو منتقل کر دیتا ہے تو یہ اس کی پیدائش ہوتی ہے اور پھر جب وہ روح اگلے جہان کو جاتی ہے تو اس جہاں سے اس کا انتقال ہوتا ہے اور ایک بڑی پیدائش بھی ہوتی ہے۔ایک عرب شاعر نے کہا کہ :۔انت الذي ولدتک ایک باکیا والناس حولك يضحكون سرورا فاحرص على عمل تكون اذا بكوا فی وقت موتک ضا حکامسرورا یعنی اے انسان تو وہی تو ہے جب تو پیدا ہوا تو تو روتا تھا۔پیدائش کے وقت چونکہ بچہ کے سینہ پر دباؤ پڑتا ہے اور وہ روتا ہے اور یہ امر اس کے سانس چلنے کا موجب ہو جاتا ہے۔اور جو بچہ پیدائش کے وقت نہ روئے ، اس پر پانی کے چھینٹے دینے پڑتے ہیں تا کہ وہ چکی لے اور سانس چلنے لگے۔شاعر کہتا ہے جب تو پیدا ہوا تو رورہا تھا اور لوگ تیرے ارد گرد خوشی سے ہنس رہے تھے۔بچہ کی پیدائش کے وقت لوگ خوشی کرتے ہی ہیں، مبارک بادیں دیتے ہیں کہ لڑکا ہو گیا۔اسی کی طرف شاعر اشارہ کر کے انسان کی غیرت کو اکساتا ہے کہ تو جب روتا تھا تو یہ لوگ تیرے ارد گرد ہنس رہے تھے۔پس تجھے چاہئے کہ ان سے اس کا بدلہ لے۔وہ کس طرح ، اس کا جواب یوں دیتا ہے۔فاحرص على عمل تكون اذا بكوا فی وقت موتک ضا حکامسرورا اب تو ایسے عمل کر اور اس کا بدلہ اس طرح لے کہ جب تیری موت کا وقت آئے تو سب لوگ تیرے ارد گر درور ہے ہوں کہ ہمارا حسن اور ہمارا ہمدرد دنیا سے چلا جا رہا ہے۔اب ہمارے کام کون کرے گا؟ اور تو ہنس رہا ہو کہ میں اپنے رب کے پاس چلا ہوں، جہاں مجھے بڑے بڑے انعام ملیں گے۔تو میں طالب علموں اور استادوں کو کہتا ہوں کہ یہ نمونہ دکھاؤ یعنی جب تم کسی جگہ جاؤ تو لوگ تمہارے آنے پر ہنسیں مگر جب تم واپس جاؤ تو تمہارے ہمجولی اور ملنے والے روئیں۔اس لئے نہیں کہ انہیں تمہارے ساتھ 107