تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 106 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 106

خطبہ جمعہ فرمود 250 جولائی 1941ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد دوم پیدا کر رہے ہو، جو خدا تعالیٰ سے نیا رشتہ جوڑ رہے ہو۔تم سوچو کہ کیا تمہارے دلوں کی یہی کفیت ہے، جو رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمائی تھی ؟ تم میں سے کتنے ہیں جن کے دل اپنے بھائی کی تکلیف پر اس طرح دکھ محسوس کرتے ہیں جس طرح جسم کے ایک حصہ پر پھوڑا ہونے سے تمام جسم محسوس کرتا ہے؟ آج میں ساری جماعت کو مخاطب نہیں کرتا بلکہ صرف طالب علموں کو مخاطب کرتا ہوں۔جو چھٹیاں منانے والے ہیں اور ان سے کہتا ہوں کہ تم قوم کی آئندہ اساس بنے والے ہو تم وہ بنیادی پتھر ہو جس پر قوم کی نئی عمارت بننے والی ہے۔ہمارے مکانات کتنے وسیع ہیں ؟ مگر باوجود اس کے کہ کئی بچوں کی شادیاں ہو چکی ہیں اور وہ علیحدہ مکانوں میں چلے گئے ہیں اور اپنے گھر بنائے ہیں، پھر بھی بعض اوقات صحن میں سب کے سونے کے لئے جگہ نہیں ہوتی۔اور یہ بچے جواب چھوٹے ہیں، جب ان کی شادیاں ہو جائیںگی تو پھر تو شاید بیھنے کی جگہ نہ ہوگی۔یہی حالت قوموں کی ہوتی ہے۔آنے والی نسلیں اپنے لئے اور گھر بناتی ہیں۔وہ پہلوں کے ایمان پر ہی اکتفا نہیں کرتیں بلکہ ایمان کی نئی عمارت تعمیر کرتی ہیں۔اگر تو ان کے ایمان کی عمارت پہلوں سے اچھی ہو تو قوم کی عزت بڑھتی ہے نہیں تو کم ہو جاتی ہے۔کل بورڈنگ تحریک جدید میں، میں نے جو تقریر کی، اس میں بتایا تھا کہ ہم سات طالب علم تھے، جنہوں نے مل کر رسالہ تشحید الاذہان جاری کیا۔کسی سے کوئی مدد ہم نے نہیں لی ، ایک پیسہ بھی چندہ کسی سے نہیں مانگا، اپنے پاس سے ہی سب رقوم دیں۔ہاں بعد میں اگر بعض دوستوں نے اپنے طور پر کوئی مدددی تو وہ لے لی ، ورنہ سب بوجھ خود ہی اٹھایا۔کسی سے مضمون بھی نہیں مانگا، خود ہی رسالہ کو ایڈٹ کرتے اور خودہی چھاپتے اور خود ہی بھیجتے تھے، سب کام خود کرتے تھے۔اور اگر اس زمانہ میں سات طالب علم مل کر یہ کام کر سکتے تھے تو اب ہمارے سکولوں کے 1500لڑ کے مل کر ان سے دواڑھائی سو گنا زیادہ کیوں نہیں کر سکتے ؟ یقینا کر سکتے ہیں، بشرطیکہ ان کے دلوں میں وہی جوش ہو بلکہ ان میں پہلوں سے زیادہ جوش ہونا چاہئے ، کیونکہ جسے بنا بنایا کا مل جائے ، اسے اس کو آگے چلانے میں بہت سی سہولتیں اور آسانیاں ہوتی ہیں۔پس میں آج طالب علموں اور استادوں سے بھی کہ ان کی ذمہ داریاں بھی بہت زیادہ ہیں، کہتا ہوں کہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں۔جو خدا تعالیٰ کی طرف سے سلسلہ کی طرف سے صدر انجمن احمدیہ کی طرف سے اور خلیفہ وقت کی طرف سے ان پر عائد ہوتی ہیں۔اب جو تم چھٹیوں پر جاؤ تو وہ ایمان اور جوش لے کر جاؤ کہ جہاں بھی تم جاؤ، جب وہاں سے واپس آؤ تو وہاں کی جماعت میں ایک بیداری پیدا ہو چکی ہو۔تمہارے اس جانے اور آنے کی مثال چھوٹی سی پیدائش اور انتقال کی ہو۔انتقال کے معنی مرنا ہی نہیں 106