تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 105 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 105

تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم خطبہ جمعہ فرمودہ 25 جولائی 1941ء سے باہر آ کر خیمے لگا دیئے۔شہر میں اور علاقہ میں یہ بات آگ کی طرح پھیل گئی اور مسلمان نوجوان اس کو جھنڈے تلے جمع ہونے لگے۔آخر یہ لشکر شام کی طرف چلا۔عیسائیوں پر حملہ کیا اور عیسائیوں نے مسلمانوں سے جو علاقے نئے نئے لئے تھے، وہ ان سے واپس لئے اور اس طرح اس عورت کی داد رسی کر کے خلیفہ عباسی واپس آیا۔یہی در داسلامی تھا۔جس نے سینکڑوں سال اسلام کے نام کو اونچا کئے رکھا۔یہ گرے ہوئے زمانہ کا حال ہے، جب عیسائیت پھر سر نکال رہی تھی، جب اسلامی نظام ٹوٹ چکا تھا بلکہ پارہ پارہ ہو چکا تھا۔مگر آج کیا ہے؟ نہ بادشاہوں کے دل میں یہ اسلامی درد پایا جاتا ہے اور نہ رعایا کے دل میں۔ایک اسلامی حکومت بھی تو ایسی نہیں، جس نے کبھی اسلامی جذبہ کے ماتحت کسی دوسری اسلامی حکومت کا ساتھ دیا و۔یہ کبھی نہیں ہوا کہ ترکوں پر کسی دشمن نے چڑھائی کی تو ایران اور افغانستان نے اس کا ساتھ دیا ہویا یران پر حملہ ہوا ہو اور افغانستان اور ترکوں نے اس کی مد کی ہو۔یورپ کی عیسائی حکومتوں میں یہ بات نظر آتی ہے مگر اسلامی حکومتوں میں نہیں۔پولینڈ پر حملہ ہوا تو برطانیہ اور فرانس اس کی طرف سے لڑے، چیکو سلواکیہ پر حملہ ہونے لگا تھا تو برطانیہ، فرانس اور روس اس کی طرف سے لڑنے کو تیار ہو گئے تھے، جرمنی پر حملہ ہوا تو اٹلی اس کی طرف سے لڑنے کو تیار ہو گیا۔تو دوسری قوموں میں تو یہ بات ہے مگر مسلمانوں میں نظر نہیں آتی۔انہوں نے کبھی بھی وہ ہمدردی نہیں دکھائی ، جو مسلمانوں کے لئے ایک دوسرے سے رکھنی ضروری ہے۔حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مسلمان آپس میں ایک جسم کی طرح ہیں۔جب ایک عضو میں تکلیف ہو تو سارا جسم درد کرنے لگتا ہے۔ہاتھ کی انگلی میں درد ہو ، منہ کے کسی حصہ میں تکلیف ہو یا پنڈلی پر بھڑ کاٹ جائے تو کیا باقی جم در محوس نہیں کرتا دیکھو آدم کو نزلہ تو ہوا ہے ناک میں بمگر کس طرح سارا جسیم بے چین ہو جاتا ہے۔کھانسی سینہ میں ہوتی ہے، مگر کیا لاتوں اور پیروں کو اس سے کوئی تکلیف نہیں ہوتی ؟ جسم کے کسی حصہ پر پھوڑا ہوتو کیا باقی جسم آرام میں ہوتا ہے؟ اگر مسلمان اس چیز کو پیش نظر رکھتے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے جو مثال دی تھی، اسے صحیح تسلیم کرتے اور جس طرح جسم کے کسی حصہ پر پھوڑا نکلنے سے تمام جسم بے چین ہوتا ہے یا نزلہ ہونے کی حالت میں سارا جسم تکلیف محسوس کرتا ہے۔مسلمان سارے عالم اسلامی کی تکلیف کو اپنی تکلیف محسوس کرتے تو مسلمان کو آج یہ دن دیکھنا نصیب نہ ہوتا۔مگر میں کہتا ہوں چھوڑ دو پرانے قصوں کو چھوڑ دو ان لوگوں کو جنہوں نے مرکز اسلام سے منہ موڑ لیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی محبت دل سے نکال دی۔تم جو آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے نیا تعلق 105