تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 104
خطبہ جمعہ فرمودہ 25 جولائی 1941ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔۔جلد دوم اس زمانہ میں عیسائیوں نے شام پر حملہ کر کے کچھ علاقہ فتح کر لیا۔عکہ اور اس کے گردونواح پر قابض ہو گئے۔اس علاقہ میں مسلمان بھی آباد تھے بلکہ سارا علاقہ مسلمان ہو چکا تھا۔سوائے ان برطانی، اطالوی ، جرمن اور آسٹرین فوجوں کے، جو وہاں تھیں۔انہوں نے پاس کے اسلامی علاقہ پر حملہ کیا۔وہاں کوئی مسلمان عورت تھی، کسی عیسائی سے اس کا جھگڑا ہوا اور عیسائی نے اس کی بے حرمتی کی ، اس کا برقعہ یا نقاب اتارا گیا اور مارا گیا۔جب اس کی ہتک کی گئی تو اس عورت نے جو بالکل ناواقف تھی اور جسے کچھ پتہ نہ تھا کہ خلیفہ عباسی کون سا ہے اور کس حالت میں ہے؟ اس نے اپنے کسی رشتہ دار سے اتنا سنا ہوگا کہ مسلمانوں کا کوئی خلیفہ ہے، جو بغداد میں رہتا ہے۔یہ کہ اس کی حالت کیا ہے؟ وہ محض ایک قیدی ہے اور اس کی کوئی طاقت نہیں ، یہ اسے علم نہ تھا۔مار پیٹ کے وقت وہ چلائی۔مسلمانوں میں رواج تھا کہ جب نعرہ لگاتے تویا للمسلمین! کہتے، یعنی اے مسلمانوں ہم تمہیں پکارتے ہیں۔اسی طرح اس عورت نے کہا کہاے مسلمانو! اے بغداد کے خلیفہ ! میں تم کو پکارتی ہوں۔جب اس نے یہ نعرہ لگا یا مسلمان تاجروں کا کوئی قافلہ اپنے رستہ پر گزر رہا تھا۔اسے یہ آواز عجیب معلوم ہوئی کہ کہاں بغداد کا خلیفہ، جو بالکل کمزور اور ایک قیدی کا طرح ہے اور کہاں شام کا یہ علاقہ ؟ خلیفہ یہاں اس عورت کی کیا مدد کر سکتا ہے ؟ مگر اہل قافلہ کے دل پر ایک چوٹ لگی۔قافلہ جب بغداد میں پہنچا تو بازار میں اپنا اسباب وغیرہ اتارنے لگا۔اس زمانہ میں تجارت چونکہ قافلوں کے ذریعہ سے ہوتی تھی۔جب کوئی قافلہ سامان تجارت لے کر آتا تو سب امیر و غریب تجارتی چیزوں کو دیکھنے کیلئے بازار میں جمع ہو جاتے تھے ، وہیں چیزیں دیکھتے اور قافلہ والوں سے سفر کے حالات سنتے تھے۔قافلہ والوں میں سے کسی نے یہ بات بھی بیان کی کہ اس طرح شام میں ہم نے ایک مسلمان عورت کی آواز سنی، جسے کسی عیسائی نے مارا اور اس کی بے حرمتی کی تھی۔اس نے خلیفہ کو پکارا اور کہا میں تجھے مدد کے لئے پکارتی ہوں۔جس طرح دہلی کے بادشاہوں کے دربار لگتے تھے باوجود کہ وہ برائے نام بادشاہ ہوتے تھے، اسی طرح عباسی خلفاء بھی دربار میں بیٹھتے تھے۔اس زمانہ میں جو خلیفہ تھا، وہ اپنے دربار میں بیٹھا تھا کہ کسی درباری نے بازار سے یہ بات سن کر اس کے سامنے بھی بیان کر دی اور کہا حضور ! یہ عجیب بات اہل قافلہ سے معلوم ہوئی ہے۔عیسائیوں نے آگے بڑھ کر چھاپہ مارا، کسی عیسائی نے ایک مسلمان عورت کی بے حرمتی کی اور اس عورت نے اس طرح دہائی دی۔باوجود کہ اس وقت اس خلیفہ کی حالت شطر نج کے بادشاہ کی تھی۔اس نے یہ بات سنی تو یہ اسے کھا گئی۔وہ فورا تخت سے نیچے اُتر کر ینگے پاؤں چل پڑا اور کہا کہ میں اب واپس نہیں لوٹوں گا ، جب تک کہ اس عورت کا بدلہ نہ لے لوں۔اس نے شہر 104