تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 103
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم خطبہ جمعہ فرمودہ 25 جولائی 1941ء 25% کا فرق تھا۔مگر وہ کہے کہ سائز وہی ہے جو آپ نے بتایا تھا۔غالباً اس کے ساتھ تحریر بھی ہو چکی تھی، جس میں سائز درج تھا۔مگر وہ پھر بھی یہی کہتا جاتا تھا کہ یہ آپ کے بتائے ہوئے سائز کے مطابق تیار ہوا ہے۔محلہ کے لوگ بھی وہاں جمع ہو گئے اور سب نے کہا کہ سائز وہ نہیں، جو انہوں نے بتایا تھا۔مگر ان سب باتوں کے جواب ، اس کا ایک ہی جواب تھا کہ میں مسلمان ہندی۔کشمیری مرد کو مونث کے طور پر بولتے ہیں۔وہ مذکر کو مونث اور مؤنث کو مذکر بولتے ہیں۔مثلاً کہیں گے چور آئی ، میں آئی ، مری بیوی آیا۔تو وہ صرف یہی جواب دیتا تھا کہ میں مسلمان ہندی یعنی میں مسلمان ہوں۔مجھے اس کی یہ بات سن کر بہت غصہ آیا اور میں نے کہا تم یہ کیوں کہتے ہو میں مسلمان ہوں، اس لئے یہ بد دیانتی میرے لئے جائز ہے؟ تم صاف کہو مجھ سے غلطی ہوئی ہے یا میں نے دھوکا کیا ہے۔تم اپنے فعل کو مسلمان ہونے کی طرف کیوں منسوب کرتے ہو؟ تو آج یہ حالت ہے کہ نہ مسلمانوں کے کسی معاہدہ کا اعتبار ہے اور نہ ان کے کسی معاملہ کا۔لین دین ان کا خراب ہو چکا ہے۔کسی سے قرض لیں گے تو واپس نہ کریں گے۔مصیبت زدہ لوگوں کے ساتھ ان کا سلوک ہمدردانہ نہیں۔ہمسائیوں سے سلوک اچھا نہیں۔جوش میں آجائیں تو بے شک قربانی کریں گے۔مگر یہ صرف ایک دو دن یا ایک دو گھنٹہ تک ہی ہوگی ، اس سے زیادہ نہیں۔آج سے تھوڑا ہی عرصہ ہوا شہید گنج کے گوردوارہ کے متعلق ان میں کتنا جوش پایا جاتا تھا اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اب یہ اس کی اینٹ سے اینٹ بجا کر ہی دم لیں گے اور جب تک اس جگہ پر قبضہ نہ کر لیں گے، چین سے نہ بیٹھیں گے۔مگر آج وہی شہید گنج موجود ہے۔وہی سکھوں کا اس پر قبضہ ہے اور حرام ہے مسلمانوں میں اتنی بھی حرکت ہوتی ہو، جتنی چیونٹی کے چلنے سے ہوتی ہے۔بس بات ختم ہوگئی تو آج دیکھو مسلمانوں کی حالت کہاں سے کہاں جا پہنچی ہے۔وہ زمانہ جو اسلامی تاریخ کا گرا ہوا زمانہ سمجھا جاتا ہے۔آج مسلمانوں میں اس زمانہ کے مسلمانوں جیسے اخلاق بھی نہیں ہیں۔خلافت عباسیہ کا آخری زمانہ بڑا دردناک اور بہت تنزل کا زمانہ سمجھا جاتا ہے۔اس وقت خلفائے عباسیہ کی حیثیت قیدیوں کی سی تھی۔کبھی ترک کبھی سلجوقی اور کبھی کرد اصل حاکم ہوتے تھے۔جس طرح ایک زمانہ میں دہلی کے بادشاہ انگریزوں کے ماتحت ہوتے تھے۔یہ ترک سلجوقی یا کر د حاکم جو چاہتے حکم دے دیتے اور کہہ دیتے کہ خلیفہ نے یوں فرمایا ہے۔جس طرح دہلی کے بادشاہوں کو وظائف ملتے تھے، اسی طرح خلفائے عباسیہ کو بغداد میں وظائف ملتے تھے۔مگر اس زمانہ میں بھی اسلامی غیرت باقی تھی کیونکہ محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا جو تمام خوبیوں اور محاسن کے منبع ہیں زمانہ قریب تھا۔103