تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 88
خطبہ جمعہ فرمودہ 20 جون 1941ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک جلد دوم تحریک میں حصہ لینے سے مقصد یہ ہے کہ خدا تمہارے ہاتھ بن جائے ، خدا تمہارے پاؤں بن جائے ، خدا تمہاری آنکھیں بن جائے اور خدا تمہاری زبان بن جائے تو کیا خدا کبھی ست ہوتا ہے؟ اگر نہیں تو تمہیں سمجھ لینا چاہئے کہ اگر تمہارے اندرستی پیدا ہوگئی تو تمہارا افضل کوئی اچھا نفل نہیں اور اس میں ضرور کوئی نہ کوئی نقص رہ گیا ہے۔ورنہ یہ کس طرح ممکن تھا کہ نوافل کے ذریعہ خدا تمہارے ہاتھ بن جاتا اور پھر بھی تمہارے ہاتھوں میں کوئی تیزی پیدا نہ ہوتی ؟ خدا کا طریق تو یہی ہے کہ وہ اپنے کاموں میں جلدی کرتا ہے اور جس کام کے کرنے کا ارادہ کرتا ہے، وہ فور ہو جاتا ہے۔پس جو شخص تحریک جدید کے چندہ میں حصہ تو لیتا ہے مگر اس چندہ کی جلد ادائیگی کا فکرنہیں کرتا، اسے سمجھنا چاہئے کہ اس کا فعل ناقص ہے۔ورنہ یہ کس طرح ہوسکتا تھا کہ خدا اس کے ہاتھ اور پاؤں بن جاتا اور پھر بھی وہ نیکی میں پیچھے رہ جاتا؟ کیا یہ ممکن ہے کہ خدا کسی کے ہاتھ بن جائے اور وہ نیکی میں پیچھے رہ جائے یا خدا کسی کے پاؤں بن جائے اور وہ پھر بھی ثواب کے کاموں کے لئے حرکت نہ کرے اور خدا اس کی زبان بن جائے اور وہ پھر بھی جھوٹا وعدہ کرے؟ جس شخص کے ہاتھ اور پاؤں خدا بن جاتا ہے، وہ کبھی نیکی میں پیچھے نہیں رہ سکتا اور جس شخص کی زبان خدا بن جاتا ہے، وہ کبھی جھوٹا وعدہ نہیں کر سکتا۔پھر یہ کس طرح تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ ایک شخص کی زبان تو خدا کی زبان ہو گئی مگر وہ سارا سال اپنی زبان سے جھوٹا وعدہ کرتا رہا یا اس کے ہاتھ تو خدا کے ہاتھ بن گئے مگر وہ ہمیشہ شل اور مفلوج رہے اور کبھی انہیں توفیق نہ ملی کہ وہ اپنے وعدے کو پورا کرنے کے لئے آگے بڑھتے ؟ یہ ناممکن اور قطعی طور پر ناممکن ہے اور اگر کسی شخص کے اندر یہ بات پائی جاتی ہے تو اس کے متعلق سوائے اس کے اور کیا سمجھا جاسکتا ہے کہ اس کا یہ دعویٰ کہ اس کی زبان، خدا کی زبان ہے، اس کے ہاتھ ، خدا کے ہاتھ ہیں اور اس کے پاؤں، خدا کے پاؤں ہیں محض جھوٹ ہے۔اگر اس کی زبان، خدا کی زبان ہوتی تو وہ کوشش کرتا کہ اپنے وعدہ کو وقت پر پورا کرے کیونکہ خدا کی زبان جھوٹی نہیں ہو سکتی اور اگر اس کے ہاتھ ، خدا کے ہاتھ ہوتے تو وہ بھی دین کے کاموں میں حصہ لینے کے موقعہ پر شل نہ ہو جاتے کیونکہ خدا کے ہاتھ مغلول نہیں ہوتے۔قرآن کریم میں آتا ہے کہ یہود نفسی کے طور پر کہا کرتے تھے کہ کیا خدا کے ہاتھ شل ہیں اور وہ مغلول ہے کہ ہم سے چندہ طلب کرتا ہے؟ قرآن کریم اس کا جواب دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ خدا کے ہاتھ شل نہیں بلکہ تمہارے اپنے ہاتھ شل ہیں۔کیونکہ اگر تم سمجھتے کہ ہمارا دینا ، خدا کا دینا ہے تو تم خوشی سے چندہ دیتے۔لیکن جب تم اپنے دل میں انقباض محسوس کرتے ہو تو معلوم ہوا کہ تمہارا ہاتھ ، خدا کا ہاتھ نہیں اور جب تمہارا ہاتھ ، خدا کا ہاتھ نہیں تو تمہارے ہاتھ مفلوج ہوئے ، نہ کہ خدا کے ہاتھ۔88