تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 64
خطبہ جمعہ فرمودہ 30 نومبر 1934ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول بتائے کہ اسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو قبول کر کے کس قدر روحانی ترقی حاصل ہوئی اور کس طرح اس کی حالت میں انقلاب آیا۔پھر ڈاکٹر یا وکیل یا بیرسٹر ہو کر قرآن اور حدیث کے معارف بیان کرے تو سننے والوں پر اس کا خاص اثر ہو سکتا ہے۔ضروری نہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات ہی بیان کی جائے بلکہ ان مسائل کو بیان کرنا بھی ضروری ہے جو قبول احمدیت میں روک بنے ہوئے ہیں مثلاً فسق و فجور میں لوگوں کا مبتلا ہونا، نمازوں سے دوری، مذہب سے بے رغبتی وغیرہ۔ان امور کے متعلق اگر کوئی بیرسٹر یا وکیل یا حج یا ڈاکٹر لیکچر دے تو کئی لوگ ایسے ہوں گے جنہوں نے مولویوں کے مونہوں سے ان کے متعلق باتیں سن کر کوئی توجہ نہ کی ہوگی مگر پھر مان لیں گے۔اس قسم کے لوگ اگر علاوہ اس قربانی کے کہ جس قدر چھٹی مل سکے اس میں تبلیغ کریں، اپنے نام دے دیں اور کہہ دیں کہ جہاں موقع ہو ان کو بلا لیا جائے تو ان سے بہت مفید کام لیا جا سکتا ہے اور یہ کام زیادہ نہ ہو گا سال میں ایک ایک، دو دو لیکچر حصہ میں آئیں گے۔یہ لوگ اگر لیکچروں کے لئے معلومات حاصل کرنے اور نوٹ لکھنے کے لئے قادیان آجائیں تو میں خود ان کو نوٹ لکھا سکتا ہوں یا دوسرے مبلغ لکھا دیا کریں گے اس طرح ان کو سہارا بھی دیا جا سکتا ہے۔شروع شروع میں خواجہ صاحب یہاں سے بہت نوٹ لکھا کرتے تھے پھر آہستہ آہستہ ان کو مشق ہو گئی۔جن اصحاب کے میں نے نام لئے ہیں کہ اس رنگ میں تبلیغ کرنے میں حصہ لیتے ہیں ان کیلئے بھی ابھی گنجائش ہے کہ اور زیادہ حصہ لیں۔اس طرح بھی تبلیغ میں نئی رو پیدا کی جاسکتی ہے۔اگر دو تین سوڈاکٹر ، وکیل، بیرسٹر اور اچھے عہد یدار لیکچر دینے لگیں گے تو لوگوں کی طبائع میں نیا رنگ پیدا ہوسکتا ہے۔مولویوں کے لیکچروں کے متعلق تو لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ فلاں ان کا مولوی اور فلاں ہمارا مولوی۔ان کی آپس میں لڑائی دیکھنی چاہئے لیکن جب لیکچر دینے والے ڈاکٹر، بیرسٹر، وکیل یا دوسرے معزز پیشوں اور عہدوں کے لوگ ہوں گے تو لوگ صرف تماشہ دیکھنے کے لئے نہیں بلکہ کچھ حاصل کرنے کے لئے جمع ہوں گے اور بہت سے لوگ سلسلہ کی طرف رغبت کرنے لگیں گے۔پرانے دوستوں میں سے کام کرنے والے ایک میر حامد شاہ صاحب مرحوم بھی تھے ان کو خواجہ صاحب سے بھی پہلے لیکچر دینے کا جوش تھا اور ان کے ذریعہ بڑا فائدہ پہنچا وہ ایک ذمہ دار عہدہ پر لگے ہوتے تھے باوجود اس کے تبلیغ میں مصروف رہتے اور سیالکوٹ کی دیہاتی جماعت کا بڑا حصہ ان کے ذریعہ احمدی ہوا۔گیارھواں مطالبہ یہ ہے کہ ایک دفعہ میں نے تحریک کی تھی کہ 25 لاکھ سے ریزروفنڈ قائم کیا جائے اور اس طرح آمد کی ایسی صورت پیدا کی جائے کہ اس کے ساتھ ہنگامی کام کئے جاسکیں۔اب ہمارا 64