تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 65 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 65

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول خطبہ جمعہ فرمودہ 30 نومبر 1934ء بجٹ ایسا ہوتا ہے کہ ہم ہنگامی کام پر کچھ خرچ نہیں کر سکتے۔یہی دیکھو اس وقت کتنا بڑا ہنگامہ شروع ہے مگر بعض دفعہ دس میں روپیہ خرچ کرنے کیلئے بھی کام میں روک پیدا ہو جاتی ہے کیونکہ سمجھا جاتا ہے کہ اس طرح بجٹ کی رقم سے زیادہ خرچ ہو جائے گا۔حالانکہ حقیقتا یہ ہونا چاہئے کہ دس لاکھ کا بجٹ ہو تو اس میں سے اڑھائی لاکھ مقررہ خرچ کے لئے ہو اور باقی ہنگامی اخراجات کے لئے ہو یعنی جو حملے جماعت پر ہوں ان کے دفعیہ کے لئے خرچ کیا جائے یا خود دوسروں پر جو حملے کئے جائیں ان میں خرچ ہو۔اب تو بجٹ نپا تلا ہوتا ہے۔اتنی رقم مبلغین کی تنخواہوں کی اتنی مدرسین کی اتنی وظائف کی اور اتنی لنگر کی۔اتنی کلرکوں اور اتنی ناظروں کی تنخواہوں کی اور بس مگر ہنگامی خرچ ساڑھے تین لاکھ کے بجٹ میں دس ہزار یا اس سے بھی کم نکلے گا۔حالانکہ اصل چیز جس سے جماعت کی ترقی ہو سکتی ہے ہنگامی کام ہی ہے۔ہم سارے ملک کا سروے کریں اور دیکھیں کہ کہاں کہاں کامیابی ہو سکتی ہے اور پھر وہاں زور دے دیں۔اب تو اگر کوئی موقع نکلے تو بھی اخراجات کی مشکلات کی وجہ سے اس سے فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا۔پچھلے دنوں بنگال کے متعلق معلوم ہوا کہ وہاں ایک پیر صاحب فوت ہوئے ہیں جنہوں نے اپنے مریدوں کو کہا تھا کہ امام مہدی آگئے ہیں ان کی تلاش کرو۔ہمارے ایک دوست نے ان میں تبلیغ کی اور ان میں سے بعض نے مان لیا لیکن بعض نے کہا کہ ہم میٹنگ کر کے سب کے سب اکٹھے فیصلہ کریں گے۔میں نے ایک مبلغ کو مقرر کیا کہ ان لوگوں کا سے جا کر ملے اور انہیں فیصلہ کرنے میں مدد دے مگر تین چار ماہ کے بعد دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ مبلغ جا کر شہر میں بیٹھا ہوا ہے اور جن علاقوں میں وہ لوگ ہیں وہاں نہیں جا سکا کیونکہ دعوت و تبلیغ کا محکمہ سفر خرچ کا انتظام نہیں کر سکا اور اس طرح ہیں تمہیں ہزار آدمی کی ہدایت کا معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا کیونکہ اس عرصہ میں مخالفت اس علاقہ میں تیز ہوگئی اور وہ لوگ ڈر گئے۔تو کئی ایسے مواقع ہوتے ہیں کہ ہنگامی خرچ کرنے سے بہت بڑی کامیابی حاصل ہو سکتی ہے یا جماعت کے اثر اور وقار میں بہت بڑا اضافہ ہوسکتا ہے مگر اخراجات نہ ہونے کی وجہ سے ہاتھ بندھے ہوتے ہیں کیونکہ جس قدر آمد ہوتی ہے مقررہ اخراجات پر ہی صرف ہو جاتی ہے۔دراصل خلیفہ کا کام نئے سے نئے حملے کرنا اور اسلام کی اشاعت کے لئے نئے سے نئے رستے کھولنا ہے مگر اس کیلئے بجٹ ہوتا ہی نہیں۔سارا بجٹ انتظامی امور کے لئے یعنی صدر انجمن کے لئے ہوتا ہے۔نتیجہ یہ ہے کہ سلسلہ کی ترقی افتادی ہورہی ہے اور کوئی نیا رستہ نہیں نکلتا۔ہم کوئی نئی کوشش نہیں کر سکتے اسی لئے میں نے اس وقت کہا تھا کہ دس سال کے اندر اندر ایسے تغیرات ہونے والے ہیں کہ ہندوستان کی حالت بدل جائے گی اور اب ایسا ہی ہو رہا ہے۔بالشویزم ہندو اور مسلمانوں میں پھیل رہی ہے اور یہ 65