تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 63 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 63

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول خطبہ جمعہ فرمودہ 30 نومبر 1934ء وقت میں کام کر سکتے ہیں۔دسواں مطالبہ یہ ہے کہ اپنے عہدہ یا کسی علم وغیرہ کے لحاظ سے جو لوگ کوئی پوزیشن رکھتے ہوں یعنی ڈاکٹر ہوں، وکلا ہوں یا اور ایسے معزز کاموں پر یا ملازمتوں پر ہوں۔جن کو لوگ عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ایسے لوگ اپنے آپ کو پیش کریں تا کہ مختلف مقامات کے جلسوں میں مبلغوں کے سوائے ان کو بھیجا جائے۔میں نے دیکھا ہے کہ اکثر لوگوں پر یہ اثر ہوتا ہے کہ مولوی آتے ہیں تقریریں کر جاتے ہیں اور یہ ان کا پیشہ ہے۔وہ لوگ ہمارے مولویوں کی قربانیوں کو نہیں دیکھتے اور انہیں اپنے مولویوں پر قیاس کر لیتے ہیں۔حالانکہ ان کے مولویوں اور ہمارے مولویوں میں بہت بڑا فرق ہے۔ہمارے مولوی حقیقی عالم ہوتے ہیں اور ان کے مولوی محض جاہل! مگر لوگ ظاہری شکل دیکھتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ احمدی مولوی بھی عام مولویوں کی طرح ہی ہیں لیکن تقریر کرنے والا کوئی وکیل، کوئی ڈاکٹر یا کوئی اور عہدہ دار ہو تو لوگوں میں یہ احساس پیدا ہو گا کہ اس جماعت کے سب افراد میں ، خواہ وہ کسی طبقہ کے ہوں ، دین سے رغبت اور واقفیت پائی جاتی ہے اور خواہ ان کے منہ سے وہی باتیں نکلیں، جو مولوی بیان کرتے ہیں مگر ان کا اثر بہت زیادہ ہو گا۔ایسے طبقوں کے لوگ ہماری جماعت میں چار پانچ سو سے کم نہیں ہوں گے مگر اس وقت دو تین کے سوا باقی دینی مضامین کی طرف توجہ نہیں کرتے۔اس وقت چودھری ظفر اللہ خان صاحب ، قاضی محمد اسلم صاحب اور ایک دو اور نوجوان ہیں۔ایک دہلی کے عبدالمجید صاحب ہیں جنہوں نے ملازمت کے دوران میں ہی مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا ، وہ لیکچر بھی اچھا دے سکتے ہیں۔سرحد میں قاضی محمد یوسف صاحب ہیں۔غرض ساری جماعت میں دس بارہ سے زیادہ ایسے لوگ نہیں ہوں گے۔باقی سمجھتے ہیں انہوں نے فراغت پالی ہے کیونکہ لیکچر دینے کے لئے مولوی تیار ہو گئے ہیں۔اسی طرح ایک تو ان کی اپنی زبانوں کو زنگ لگ رہا ہے پھر دوسرے لوگ بھی ان سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔مجھے یاد ہے کہ خواجہ کمال الدین صاحب کو لیکچر دینے کا شوق تھا اور انہوں نے اس رنگ میں خدمت کی ہے۔کسی نے ان کے متعلق کہا وہ شہرت چاہتے ہیں اس لئے لیکچر دیتے پھرتے ہیں۔میں نے کہا اگر وہ شہرت کے لئے ایسا کرتے ہیں تو تم خدا کے لئے کیوں اسی طرح نہیں کر سکتے ؟ بہر حال اُن کو دھن تھی اور وہ لیکچر دینے جایا کرتے تھے۔میں نے ان کے کئی لیکچر سنے ہیں۔جب وہ لیکچر دیتے ہوئے اس موقع پر آتے کہ خواہ تم حضرت مرزا صاحب کو برا کہو مگر میں عیسائی ہونے لگا تھا مجھے انہوں نے ہی بچایا تو اس طرح لوگوں کے دلوں میں حضرت اقدس کے متعلق اُنس پیدا ہو جاتا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی قدر بھی کرتے کہ انہوں نے خواجہ صاحب کو عیسائی ہونے سے بچایا۔میں سمجھتا ہوں اگر اچھی پوزیشن رکھنے والا ہر شخص اپنے حالات بیان کرے اور 63