تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 701 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 701

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول اقتباس از خطبه جمعه فرموده 4 اگست 1939ء سمجھ لیں کہ یہ ایک موت ہے جس کا ان سے مطالبہ کیا جارہا ہے خطبہ جمعہ فرمودہ 4 اگست 1939ء وو میں نے تحریک جدید شروع کی۔میں سمجھتا ہوں اپنے دل میں اسلام کا درد رکھنے والا کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں ہو سکتا تھا جس کے سامنے یہ تحریک پیش کی جاتی کہ اس چندہ کے ذریعہ ایک ایسا مستقل فنڈ قائم کر دیا جائے گا جو دائمی طور پر اسلام کی تبلیغ کے کام آئے گا اور وہ یہ تحریک سننے کے باوجود اس میں حصہ نہ لیتا بلکہ میں سمجھتا ہوں اگر ایک مرتے ہوئے با ایمان انسان کے کانوں میں بھی یہ تحریک پہنچ جاتی تو اس کی رگوں میں خون دوڑنے لگتا اور وہ سمجھتا کہ میرے خدا نے میرے مرنے سے پہلے ایک ایسی تحریک کا آغاز کرا کے اور مجھے اس میں حصہ لینے کی توفیق عطا فرما کر میرے لئے اپنی جنت کو واجب کر دیا مگر تم میں سے کتنے ہیں جنہوں نے اس کی اہمیت کو سمجھا۔تم میں سے کتنے ہیں جنہوں نے استقلال کے ساتھ اس میں حصہ لیا۔لاکھوں کی جماعت میں سے پانچ ہزار کی تعداد بھی تو ابھی پوری ہونے میں نہیں آئی۔چنانچہ میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ ” الفضل میں ان لوگوں کی جو فہرست شائع ہو رہی ہے جنہوں نے شرائط کے مطابق تحریک جدید کے پانچوں سالوں کا چندہ اگست تک ادا کر دیا ہے ان کی تعداد تین چار سو سے زائد نہیں ہوئی اور ابھی تو اس تحریک کا پانچواں سال ہے نا معلوم شامل ہونے والوں میں سے آخری سال تک کون گرتا اور کون رہتا ہے؟ اس زمانہ کے لوگ چاہتے ہیں کہ وہ اپنے گھروں میں آرام سے بیٹھے رہیں اور وہ انعام بھی حاصل کر لیں جو پہلے انبیاء کی جماعتوں نے حاصل کئے۔حالانکہ یہ بالکل ناممکن ہے۔وہ انعامات تو الگ رہے ایمان بھی اس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتا جب تک ان تمام قربانیوں میں حصہ نہ لیا جائے جو پہلے انبیاء کی جماعتوں نے کیں۔ایمان تو ایک موت ہے۔جب تک کوئی شخص اس موت کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا اس وقت تک وہ ہرگز ہرگز ابدی زندگی حاصل نہیں کر سکتا۔اللہ تعالی انہی لوگوں کو اپنی بارگاہ میں قبول کیا کرتا ہے جو ہر وقت مرنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔وو پس میں جماعت کے تمام دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ تحریک جدید کی ہر قسم کی قربانیوں میں حصہ لیں اور جو وعدے انہوں نے کئے ہوئے ہیں انہیں پورا کریں اور سمجھ لیں کہ یہ 701