تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 695 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 695

تحریک جدید- ایک ابھی تحریک۔۔۔۔جلد اول مقابلہ میں جو آخرت میں ملتا ہے کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتا۔خطبہ جمعہ فرموده 30 جون 1939ء پھر دنیا میں یہ قاعدہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی بنک کو قبل از وقت ادائیگی کر دیتا ہے تو اسے ڈسکاؤنٹ ملتا ہے۔مثلاً اگر 30 جولائی کو رقم واجب الادا ہے اور وہ 30 جون کو ہی ادا کر دیتا ہے تو بنگ اسے آٹھ آنے یا چار آنے سینکڑہ ڈسکاونٹ کاٹ کر بھیج دے گا۔گویا اسے قبل از وقت ادائیگی کا منافع دے گا۔یہی حال اللہ تعالیٰ کا ہے جو شخص بر وقت اور جلدی اپنا وعدہ پورا کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کا ڈسکاؤنٹ اس کو ضرور دیتا ہے۔اگر بنک اپنے محدود مال کے ساتھ ڈسکاؤنٹ ادا کرتا ہے تو یہ کیونکر قیاس کیا جا سکتا ہے کہ اگر کوئی شخص وقت سے پہلے اپنا وعدہ پورا کرے تو اللہ تعالیٰ اسے ڈسکاؤنٹ نہیں دے گا ؟ وہ دے گا اور ضرور دے گا مگر وہ چاندی یا سونے کے سکے میں نہیں ہوگا بلکہ نور اور برکت کی صورت میں ہوگا۔حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کے پاس لوگ گئے اور کہا کہ روم کا بادشاہ ہم سے جزیہ مانگتا ہے دیں یا نہ دیں؟ ان کا مقصد اس سوال سے فتنہ پیدا کرنا تھا۔ان کا خیال تھا کہ اگر آپ کہیں گے کہ نہ دو تو ان کو شرارت کا موقعہ مل جائے گا اور کہہ سکیں گے کہ یہ حکومت کا باغی ہے اور اگر کہیں گے کہ دے دو تو پھر کہہ سکیں گے کہ تم جو کہتے ہو کہ میں خدا تعالیٰ کا نبی اور یہود کا بادشاہ ہوں یہ کیونکر صحیح ہے؟ اپنی طرف سے انہوں نے بڑی چالاکی کی اور سمجھا کہ اس طرح آپ پکڑے جائیں گے مگر آپ نے کہا کہ قیصر کیا مانگتا ہے؟ انہوں نے سکہ نکال کر دکھایا کہ یہ مانگتا ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت بھی سکہ پر بادشاہ وقت کا کوئی نہ کوئی نشان ضرور ہوتا ہوگا۔آپ نے اس سکہ پر قیصر کی تصویر یا نشان دیکھا تو فرمایا کہ یہ قیصر کا ہے اس لئے اسے دو اور جو خدا کا ہے وہ خدا کو دو یعنی یہ روپیہ تو بنا ہوا ہی قیصر کا ہے یہ اسے دو اور اللہ تعالیٰ کا ٹیکس اطاعت کا ہے وہ اسے دو۔اللہ تعالیٰ کے سکے اور ہیں اور وہ انہی میں بدلہ ادا کرتا ہے۔ہاں یہ علیحدہ بات ہے کہ وہ اپنے بندوں کی مشکلات کو دیکھ کر کبھی دنیوی نفع بھی ان کو دے دیتا ہے اور اس دنیا میں بھی فضل کر دیتا ہے جیسا کہ ہزار ہا احمدیوں نے اس کا تجربہ کیا ہے۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ سنایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ میں مکہ میں تھا اور کچھ روپیہ کی ضرورت پیش آئی۔اس وقت آپ طالب علم تھے۔طالب علموں کی ضروریات بھی محدود ہوتی ہیں۔چنانچہ اس وقت آپ کو دس پندرہ روپیہ کی ہی ضرورت تھی۔آپ رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ میں نے دل میں کہا کہ کسی سے مانگوں گا نہیں اور مصلی بچھا کر نماز پڑھنے لگ گیا۔نماز کے بعد جب مصلیٰ اٹھا اٹھا کر چلنے لگا تو دیکھا کہ مصلے کے نیچے ایک پونڈ پڑا ہوا تھا۔اب چاہے وہ پہلے ہی وہاں پڑا ہوا ہو چاہے اس وقت کسی کی جیب سے اچھل کر وہاں جا پڑا ہو اور چاہے فرشتوں نے رکھ دیا ہو۔بہر حال اللہ 695